رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت انتقال کرگئے

اسلام آباد (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی اور معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 49 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔عامر لیاقت حسین کے سوگواران میں ایک بیٹا اور بیٹی ہیں۔ڈی آئی جی شرقی مقدس حیدر نے عامر لیاقت کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ رکن اسمبلی کی رات میں طبیعت بگڑ گئی تھی اور حالت زیادہ خراب ہونے پر ان کو آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا جب کہ پولیس کا موقف ہے کہ موت کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا، فی الحال ان کا گھر سیل کرکے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق عامر لیاقت حسین کے کمرے کا دروازہ بند تھا جسے گھر کے ملازمین کافی دیر سے کھٹکھٹا رہے تھے، بعدازاں دروازہ زبردستی کھولا گیا تو عامر لیاقت حسین مردہ حالت میں پائے گئے۔عامر لیاقت کے ملازم کا بیان ہے کہ انہیں رات سے ہی سینے میں تکلیف تھی، ہم نے رات کو ہی انہیں اسپتال لے جانے کا کہا مگر انہوں ں ے منع کر دیا تھا، کمرے میں انہیں مردہ حالت میں پایا تو شور مچایا جس پر اہل محلہ جمع ہوگئے جن کی مدد سے عامر لیاقت کو اسپتال منتقل کیا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے رکن قومی اسمبلی کے انتقال کی خبر ملتے اجلاس جمعہ کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا۔ عامر لیاقت کے موت کی خبر سنتے ہی سیاستدانوں کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عامر لیاقت کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے صحافت سے سیاست تک ایک متحرک زندگی گزاری۔ انہوں نے تحریر و تقریر سے زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی رکن قومی اسمبلی کے اچانک انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے عامر لیاقت کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ اور عزیز ق اقارب اور چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین ملک کے بڑے نجی ٹی وی چینلز سے منسلک رہے تھے وہ مشہور ٹی وی میزبان تھے اور رمضان المبارک میں طویل ٹرانسمیشن کرنے کا ریکارڈ رکھتے تھے۔عامر لیاقت حسین 5 جولائی 1971 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے پہلی شادی سیدہ بشریٰ اقبال سے کی تھی جن سے ان کے دو بچے ہیں تاہم یہ تعلق 2020 تک برقرار رہا۔ایم این اے عامر لیاقت حسین نے 2018 میں پاکستانی ماڈل اور اداکارہ سیدہ طوبیٰ سے دوسری شادی کی تھی تاہم فروری 2022 میں انہوں نے بھی عامر لیاقت سے خلع لے لی۔5 فروری 2022 کو لودھراں سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ سیدہ دانیہ شاہ سے انہوں نے تیسری شادی کی تھی جو زیادہ عرصہ تک نہ چل سکی اور دونوں میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔عامر لیاقت حسین نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز ایم کیو ایم سے کیا تھا، وہ 2002 میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، وہ وفاقی وزیر مذہبی امور بھی رہ چکے تھے۔مارچ 2018 میں انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تاہم مارچ 2022 میں انہوں نے پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر علیحدگی اختیار کر لی تھی۔عامر لیاقت حسین کے سوگواران میں ایک بیٹا اور بیٹی ہیں۔