سپریم کورٹ مقننہ کے معاملات میں مداخلت کرے گی تو جواب بھی آئے گا،پرویز اشرف

اسلام آباد (آن لائن)قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں مداخلت کرے گی تو پھر دوسرے ادارے بھی عدلیہ کی حدود میں جائیں گے۔ وائس آف امریکہ کو دئیے گئے انٹرویو میں راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار کو تسلیم نہیں کرنا تو پھر انتخابات کا مذاق بھی ختم کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے اور اگر قدغن لگا دی جائے گی کہ صرف وہی قانون سازی ہوگی جو سپریم کورٹ کہے گی تو پھر پارلیمنٹ کی آئینی بالادستی تو ختم ہوگئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس صورت میں پارلیمنٹ سپریم کورٹ کی جانب سے آئینی اداروں کی حدود میں مداخلت کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر آئین سازی بھی انہیں (سپریم کورٹ) کو کرلینی چاہیے۔ یہ کہاں کا اصول ہے کہ قانون بھی وہ (سپریم کورٹ) بنائے اور اس پر فیصلے بھی وہی کریں؟اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس صورت میں پارلیمنٹ سپریم کورٹ کی جانب سے آئینی اداروں کی حدود میں مداخلت کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کرسکتی ہے۔ پرویز اشرف کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے از خود نوٹس کے اختیار سے متعلق قانون سازی کی کہ یہ فیصلہ صرف چیف جسٹس کے بجائے تین سینئر جج کریں تو سپریم کورٹ نے اس بل کو قانون بننے سے پہلے ہی روک دیا۔ ان کے بقول پارلیمان کو سرنگوں کرنے کا یہ رویہ بہت خطرناک ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہی سپریم کورٹ جو عوام کے منتخب نمائندوں کو قانون سازی سے روک رہی ہے،اس نے فوجی آمر پرویز مشرف کو قانون میں ترمیم کا حق دے دیا تھا۔ ان کے بقول ریاست کے آئینی اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔پرویز اشرف کہتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور کون سے عوامل اس کے پیچھے کار فرما ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ کے ججز پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ غور کریں کہ کہیں ان کے طرزِ عمل کی وجہ سے ملکی مفاد کو تو نقصان نہیں پہنچ رہا۔ ان کے بقول کہیں ہم اپنی پارلیمان کو خود ہی بے وقت تو نہیں کر رہے جس کے بہت خطرناک اثرات ہو سکتے ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے جہاں سے آئین نے جنم لیا اور آئین پاکستان کے مطابق اقتدار کو عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کیا جائے گا، کسی اور ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب وکلا تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں یہ مطالبہ کررہی تھیں کہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے معاملے کو سننے کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے تو اس میں کیا قباحت تھی کہ تین یا سات کی بجائے 17 ججز اسے سن لیتے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اتنی سے بات سے ابہام دور ہوسکتا ہے، ملک میں پیدا ہیجان کی کیفیت ختم ہوسکتی ہے تو فل کورٹ کیوں نہیں بنایا گیا۔وہ کہتے ہیں کہ انصاف پر مبنی فیصلوں کو ہر شہری اور ادارے پر لازم ہے کہ قبول کرے۔‘اس سوال پر کہ سپریم کورٹ کے جس رویے پر وہ شکوہ کررہے ہیں، کیا پارلیمان بھی جواباً وہی رویہ اپنائے ہوئے نہیں ہے؟ پرویز اشرف نے کہا کہ اگر کسی پر حملہ کیا جائے گا تو وہ جواب تو دے گا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اقدامات پر پارلیمان کو جواب الجواب نہیں دینا چاہیے لیکن اگر عدلیہ کی جانب سے متنازع اقدامات سامنے آتے ہیں تو ایوان سے اس کا جواب دینا پڑتا ہے۔