اسلام آباد(آن لائن) وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے وقفہ سوالات کے دوران اراکین قومی اسمبلی کے سوالات کے رد عمل میں بتایا ہے کہ اس قومی اسمبلی میں فنانس بل کے زریعے حذف شدہ ترامیم کو دوبارہ بحال کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، مختلف اداروں میں ایک سال سے زائد دورانیہ ہوئے ضبط شدہ کھڑی گاڑیوں کی کل تعداد 140 ہے، پانچ مختلف شہروں میں کھڑی یہ گاڑیاں کسٹم کی طرف سے ضبطکی گئی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے بتایا کہ ایف بی آر کو قانون اور تفویض کردہ اختیارات کی حدود کے اندر ہونے کی صورت میں عدالت کے فیصلے کی تشریح کا اختیار حاصل ہے، ایف بی آر کسٹمز ایپلٹ ٹربیونل کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر سکتی ہے۔عام طور پر چار قسم کے کیسز میں امپورٹ پالیسی آرڈر کی تکنیکی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ ان میں پابندی کی حامل اشیاء بنیادی اشیاء ناقابل استعمال حالت میں موجود اشیاء اور بھارت اور اسرائیل کی بنائی جانے والی اشیاء شامل ہیں۔ جون 2022 تک فی کس سرکاری قرضہ 2 لاکھ 16 ہزار 7 سو چھ روپے تھا، سابقہ فاٹا کے ترقیاتی اخراجات کی مد میں رواں مال میں 17 فروری 2023 تک خیبر پختونخواہ حکومت کو 50120 ملین روپے جاری کئے گئے ہیں۔ رواں برس سابقہ فاٹا کیلئے کل 115200 ملین روپے مختص کئے گئے تھے، وزیر مملکت نے بتایا کہ افراط زر میں اضافہ کی بڑی وجہ عالمی منڈیوں میں اجناس کی قیمتوں کا اضافہ ہے۔ ابھی حالات ایسے ہیں کہ ہمیں گندم تک درآمد کرنا پڑ رہی ہے، پچھلی حکومتیں اس بابت آپ ا فعال کردار ادا نہیں کر سکیں۔ مارکیٹ کمیٹیاں بھی اس حوالے سے ایکٹیو نہیں رہیں۔ اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے ہم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقم بڑھائی ہے دیگر اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں،رکن اسمبلی آسیہ عظیم کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت خزانہ نے بتایا کہ صحت کارڈ کی مد میں اٹھنے والے اخراجات میں صوبائی حکومتیں خرچے برداشت کر رہی ہیں۔ اس سکیم کی ری ڈیزائننگ کی بہت ضرورت ہے۔ ابھی تو ایسے بہت سے لوگ بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو اپنے علاج کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت 250 ملین زائد کے ٹرن اوور کی حامل چھوٹی کمپنیوں کو انسینٹیوز دیئے جا رہے ہیں.
Load/Hide Comments



