سوات کبل پولیس اسٹیشن کے باہر خودکش دھماکے تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی قائم کردی گئی، خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی، مزید تحقیقات جاری ہیں۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے سیدو شریف اسپتال میں زخمی اہلکاروں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ دہشتگردی کا خدشہ موجود تھا جس کے باعث سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، پولیس جوانوں نے خودکش حملہ آور کو روکا، جس پر دھماکا ہوا۔
سوات کے علاقے کبل میں دھماکا، 6 پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد شہید، 10 زخمی
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے بھی سیدو شریف اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔
اس سے قبل سوات دھماکے میں شہید 7 پولیس اہل کاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کر دی گئی، حملے میں 7 پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد شہید ہوئے۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی نے سوات خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
اعلامیے میں کہا کہ خودکش حملے، دہشت گردی اور بےگناہ افراد کا قتل حرام ہے، دہشت گرد عناصر فتنۂ خوارج کی فکر کے پیروکار ہیں۔



