وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ جس سسٹم میں ہم رہ رہے ہیں آپ مانیں یا نہ مانیں یہ گر چکا ہے۔ انہوں نے ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو ناگزیر قرار دے دیا۔
پہلی پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ سیاسی تقریر نہ کروں، آج تھوڑی سی سیاسی تقریر کرنی پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور کے پی والے اپنے مسائل بتارہے تھے۔ پاکستان کی اس حالت میں جہاں آج ہم ہیں اس کے ذمہ دار سب یہاں بیٹھے ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مجھے سیاست کے ایوانوں میں آئے ساڑھے تین سال ہوگئے۔ میں یہی بتاسکتا ہوں کہ آپ 10 سال بعد بھی یہاں بیٹھے یہی مسائل بتارہے ہوں گے۔
پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ، معاشی استحکام کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر قرار
انہوں نے خبردار کیا کہ جس سسٹم میں ہم رہ رہے ہیں یہ سسٹم منہدم ہوچکا ہے۔ جس دن آپ نے فیصلہ کرلیا نظام کو ٹھیک کرنا ہے، یہ نظام ٹھیک ہوجائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ میں جمہوریت کا سب سے بڑا سپورٹر ہوں لیکن جمہوریت میں بھی کئی قسم کے نظام ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عام آدمی کو بنیادی سہولت چاہیے جو ہم نہیں دے پاتے ہیں۔
محسن نقوی نے ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو ناگزیر قرار دے دیا اور کہا کہ آپ کو ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی سطح پر جانا ہوگا۔ اسے صوبے کہہ دیں یا جو بھی بھی نام دے دیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ نوجوانوں کو 2، 4 ہزار روپے یا ٹیبلٹس دے کر ٹھیک کرلیں گے۔ جب تک ملک کی بنیادی چیزوں کو ٹھیک نہیں کریں گے مسائل رہیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کو کون ٹھیک کرے گا؟



