محسن داوڑ پر میرانشاہ میں قاتلانہ اور بزدلانہ حملے کیخلاف احتجاج، حملے کی شدید مذمت

چمن(آن لائن)نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی چیئرمین محسن داوڑ پر شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں قاتلانہ اور بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ این ڈی ایم چمن نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی چیئرمین محسن خان داوڑ اور ساتھیوں سمیت ناروا اور غیر انسانی حملے خلاف اتوار 11 فروری سناتن چوک پر این ڈی ایم اور پی ٹی ایم ک جانب سے مشترکہ پر امن احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں تمام باشعور وطن دوست سیاسی کارکنوں اور چمن شہر کے غیور عوام نے بھرپور شرکت کی احتجاجی مظاہرے سے این ڈی ایم کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جاوید خان اچکزئی، ضلعی رہنماں سمیع اللہ امین، احمداللہ بارکزئی، پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما عزیز ممتاز اور دیگر مقررین نے محسن داوڑ اور دیگر پرامن اور نہتے اپنے حق کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ حالیہ جنرل الیکشن میں بڑے مارجن سے کامیاب ہونے والے این ڈی ایم کے سربراہ محسن داوڑ پر فورسز کا حملہ کرنا انتہائی سفاکانہ عمل ہے اس عملے میں محسن داوڑ شدید زخمی ہوا اور 3 افراد این ڈی ایم سندھ صوبائی کمیٹی ممبر شیر ایوب وزیر، اصف داوڑ، وھاب داوڑ شہید ہوئے اور 15 افراد زخمی ہوئے تھے ہمیں بتایا جائے کہ جمہوری ملک میں اپنے حق کیلئے مظاہرہ کرنے والے پر امن عوام پر فائرنگ کیو کی گئی کیا یہ لوگ پاکستان کے نہیں ہے یا آئین و دستور کے پرخچے اڑاتے ہوئے بے لگام فورسز آئین و دستور سے بالاتر ہوکر جو کرناچاہیے وہ کرسکتے ہیں اور نہتے اور پر امن پاکستانی عوام پر جب بھی چاہیے قتل کرسکتے ہیں کیونکہ ان لوگوں کو کوئی روکنے والا نہیں ہے لیکن این ڈی ایم اس بے لگام ہاتھی کو ہر حال میں پر امن رہ کر روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے یہ آئین و دستور سے بالاتر ہو کر یہ بے لگام لوگ احمقوں کی دنیا سے باہر آجائیں اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے کیونکہ پشتون وہ پرانے ذمانے کے نہیں ہے بلکہ پشتون قوم کے ساتھ ساتھ دیگر قومیں بھی اب بیدار ہو چکی ہے اور پورے پاکستان کے عوام ان لوگوں کو پہچان چکی ہے اب ان بے لگام غنڈوں کے پروپیگنڈہ میں نہیں آنے والے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جاوید خان اچکزئی مزید کہا کہ کہ جنرل الیکشن کے دو روز گزرنے کے باوجود اور بڑے مارجن سے جیتنے والا محسن داوڑ کے رزلٹ کو بزور طاقت چینج کرنے کی حماقت میں ناکام ہونے کے بعد بے لگام سیکیورٹی فورسز قتل و غارت گری پر اتر آئی اور اپنے جھوٹ کو چھپانے کیلئے نہتے شہریوں پر فائرنگ کر کے 3 افراد کو شہید کیا گیا اور 15 افراد کو زخمی کردیا اپنے عوام کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کرنے والے کیا خاک ملک اور سرحدوں کی حفاظت کرسکیں گے جس کا نمونہ ہم نے 65 اور 71 کی جنگ میں بھی دیکھ چکے ہے دوسری جانب جمعیت علما اسلام کے لیڈرشپ اور کارکنوں نے سیکورٹی فورسز کا بھی ریکارڈ توڑ دیا اور پورے علاقے میں جعلی طور پر ٹی ٹی پی کے نام پر پیمپلیٹ تقسیم کئے گئے تھے جس پر واضح طور پر محسن داوڑ کو ووٹ دینے سے ڈرا دھمکا کر کے روکنے کی کوشش کی گئی تھی اور ان لوگوں کو بھی منہ کے بل کھانے پڑی مقررین نے مزید کہا کہ مرکزی کمیٹی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے کارکنوں کو پر امن رہنے کی استدعا کی گئی اور یہ عظم کیا گیا کہ ملوث سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف جلد از جلد قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا کیونکہ کارکنوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔