اسلام آباد (آن لائن) نگران وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہونگے،نگران حکومت الیکشن کے انعقادمیں الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گی،میں کبھی کسی جماعت کا کارکن نہیں رہا،سرکاری میڈیا پر تمام جماعتوں کو مساوی کوریج دی جارہی ہے، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا انتخابات میں اہم کردار ادا کرے گا، مگر سوشل میڈیا کے نتیجے میں ہی کوئی فیصلہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، آج کل اگر آپ اپنے پروگرام میں جتنا زیادہ جھوٹ یا من گھڑت خبریں پھیلاتے ہیں تو انکو زیادہ سنا جاتا ہے جو تشویشناک ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے،یوٹیوبرز جو اپنے سکرائب اور بیل آئیکون اور ویوز کیلئے جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے،صحافت عوام کے نمائندے نہیں عوام کے نمائندے وہ ہیں جن کو وہ ووٹ کے ذریعے منتخب کرکے ایوان میں بھیج دیتے ہیں،کوئی صحافی پیشہ تبدیل کرکے سیاستدان بن جائے تو اس میں کوئی پابندی نہیں ہے ساری دنیا میں ایسا ہوتا ہے۔سرکاری میڈیاایک انٹرویومیں مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ میں عوام سے کہتا ہوں کہ جو جماعتیں آپ کے سامنے رنگا رنگ منشور دے رہی ہیں جو بلند و بانگ دعوے کررہی ہیں یہ ان کی ذمہ داری ہے مگر آپ اپنے عقل کا استعمال کریں دیکھیں ماضی دیکھیں ان کی کارکردگی دیکھیں اور آٹھ فروری کو گھروں سے نکلیں اور جس جماعت کو مناسب سمجھتے ہیں ان کوووٹ دیں ووٹ دینا حب الوطنی میں آتا ہے یہ آپ کا قومی فریضہ ہے اور امانت ہے جسے آپ نے ہر صورت میں استعمال کرنا ہے جتنا اچھا ٹرن آؤٹ ہوگا انتخابات کی شفافیت اتنی ہی بہترین ہوگی اور ایک بہترین حکومت منتخب ہوکر آپ کی بہتر طریقے سے خدمت کرسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت آٹھ فروری کو ہی ہونگے اس میں کوئی ابہام یا کوئی دو رائے نہیں ہیں اس وقت کوئی ایسے حالات نہیں ہیں کہ الیکشن کو التواء کا شکار کیا جائے تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی کمپین شروع کردی ہے نگران حکومت کی پوری کوشش ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی معاونت کرے۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہاکہ میں کسی سیاسی جماعت کا کارکن نہیں ہوں نہ ہی کسی سیاسی جماعت کی حمایت کررہا ہوں نگران حکومت شفاف انتخابات کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گی۔ نگران وزیر اطلاعات ونشریات نے کہا کہ سرکاری میڈیا پر تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی کوریج مل رہی ہے جو تجزیہ نگار یا صحافی تبصرے کررہے ہیں وہ اپنا کام کررہے ہیں عوام کا کام اپنی مرضی کا ووٹ دے کر حکومت منتخب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کا بہت اہم کردار ہے اور یہ انتخابات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے مگر کسی بھی قسم کا حتمی فیصلہ یا نتیجہ سوشل میڈیا کے ذریعینہیں لگایا جاسکتا وہ عوام کے اندر جا کر ہی لگایا جاسکتاہے اور عوام ہی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ آج کل اگر آپ اپنے پروگرام میں جتنا زیادہ جھوٹ یا من گھڑت خبریں پھیلاتے ہیں تو انکو زیادہ سنا جاتا ہے جو تشویشناک ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے،یوٹیوبرز جو اپنے سکرائب اور بیل آئیکون اور ویوز کیلئے جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے،صحافت عوام کے نمائندے نہیں عوام کے نمائندے وہ ہیں جن کو وہ ووٹ کے ذریعے منتخب کرکے ایوان میں بھیج دیتے ہیں،کوئی صحافی پیشہ تبدیل کرکے سیاستدان بن جائے تو اس میں کوئی پابندی نہیں ہے ساری دنیا میں ایسا ہوتا ہے۔
Load/Hide Comments



