معیشت میں زراعت کا حصہ وقت کے ساتھ کم ہوتا جا رہا ہے، زراعت پر ٹیکس ریٹ ایسا ہونا چاہیے کہ لوگ آسانی سے دے سکیں، نوید قمر

حیدرآباد(آن لائن) سابق وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا ہے کہ معیشت میں زراعت کا حصہ وقت کے ساتھ کم ہوتا جا رہا ہے زراعت پر ٹیکس ریٹ ایسا ہونا چاہیے کہ لوگ آسانی سے دے سکیں۔حیدرآباد میں کاشت کار رہنماؤں کے اجلاس کے بعد ایوان زراعت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوید قمر کا کہنا تھا کہ زراعت کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کے جو مسائل ہیں آج کے اجلاس میں ان پر بحث ہوئی ہے زراعت کا معیشت میں حصہ وقت کے ساتھ کم ہورہا ہے پالیسیوں کی وجہ سے زراعت کی فوقیت کم ہوتی جارہی ہے فرٹیلائزر پالیسی کو ترجیحات دینے کی ضرورت ہے اس وقت ہمارے پاس فارن ایکسچینج نہیں ہے کپاس کی کاشت میں اب تک کسی بڑی کمپنی سے کوئی معاہدہ نہیں کیا ہمیں واٹر مینجمنٹ پر سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے ماضی میں بھی حکومتوں نے پرو ایگریکلچر پالیسی نہیں بنائی تو لانگ ٹرم نتائج نہیں ملے باہر کے ملکوں سے انویسٹمنٹ چائیے اس کے لیے لانگ ٹرم پلان بھی دینا ہوگا ان کا کہنا تھا کہ ایگری کلچر ٹیکس دینا چاہیے ٹیکس ریٹ ایسا ہونا چاہیے کہ لوگ دے سکیں باہر سے گندم کتنے ٹائم تک منگوائی جاسکتی ہے سوال یہ ہے کہ گندم پر کب تک سبسڈی دیتے رہیں گے ضرورت ہے کہ فارمز کو گندم کی ایسی رقم دیں کہ وہ کوئی اور فصل نہ لگائے، انہوں نے کہاکہ 2008ء میں ساڑھے چارسو ساڑھے آٹھ سو روپے من گندم کی قیمت تھی جس کے بعد ہمیں گندم امپورٹ کرنے سے جان چھوٹی تھی جب پیپلزپارٹی کو یہ موقع ملا گندم کی ساڑھے چار ہزار روپے قیمت رکھی، اسی طرح کپاس کی قیمتوں کے بھی مناسب ریٹ رکھے.