ملک کے تمام مسائل کا علاج الیکشن سے ہی ممکن ہے: سراج الحق

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں افراتفری اور زہریلی پولرائزیشن ہے، معاشی کے ساتھ ساتھ آئینی اور سیاسی بحران منہ کھولے کھڑے ہیں، بدامنی کا راج ہے اور عوام مہنگائی اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں، ان تمام مسائل کا علاج الیکشن سے ہی ممکن ہے۔ ہم چاہتے ہیں بیک وقت قومی انتخابات ہوں اور مرکز اور صوبوں میں نگران حکومتیں قائم ہو جائیں۔ جماعت اسلامی تمام سیاسی جماعتوں کو اس مقصد کے حصول کے لیے ڈائیلاگ کی طرف بلا رہی ہے، مذاکرات میں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہو گا کہ آئندہ الیکشن میں عدالتیں، الیکشن کمیشن اور اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر غیرجانبدار ہوں اورانتخابات کے بعد فساد اور انتشار برپا نہ ہو، قوم کے اندر وحدت آئے اور23 کروڑ عوام اپنے لیے ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو ملک کو کرپشن، جہالت اور غربت سے نجات دلائے اور اسے جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے صدق دل سے محنت اور جدوجہد کرے۔ امید رکھتا ہوں کہ آئندہ الیکشن پاکستان میں فرسودہ نظام کے خاتمے اور حقیقی تبدیلی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے تیمرگرہ دیر پائن میں افطارڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت نے وفاقی وزیر مفتی عبدالشکور کی ٹریفک حادثے میں شہادت پر ان کے اہل خانہ سے لکی مروت میں تعزیت اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔سراج الحق نے کہا کہ ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے، جماعت اسلامی اسی مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، ملک میں وسائل کی کمی نہیں، اصل مسئلہ ان کی منصفانہ تقسیم ہے، دو فیصد اشرافیہ نے 98فیصد عوام کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے، سودی معیشت اور کرپشن کا خاتمہ ہو جائے تو ملک کو بیرونی قرضوں کی ضرورت نہیں، پاکستان کو سازش کے ذریعے اسلامی نظام سے محروم رکھا گیا، حکومتیں مافیاز کے کنٹرول میں، ظالم جاگیردار، وڈیرے اور کرپٹ سرمایہ دار دولت اور طاقت کی بنیاد پر ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں، کشتی کو بھنور سے نکالنے کے لیے اہل قیادت کی ضرورت ہے، قوم اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے اور جماعت اسلامی کی جدوجہد میں شریک ہو، آزمائے ہوئے سانپوں کو مزید دودھ پلایا گیا تو یہ اژدھے بن کر عوام کو ہی کھا جائیں گے۔ سراج الحق نے کہا کہ خیبرپختونخوا مسائل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، مالاکنڈ ڈویژن میں پی ٹی آئی کے دور میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے، صوبے میں بدامنی اور خوف کا راج ہے، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں اور بھتہ خوری کے واقعات ہو رہے ہیں، مسلح گینگ پھرتے ہیں اور انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔