اسلام آباد(آن لائن)آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ہمیں نئے اور پرانے پاکستان کی بحث کو چھوڑ کر “ہمارے پاکستان” کی بات کرنی چاہیئے، اسوقت پاکستان میں الحمد اللہ کوئی نو گو ایریا نہیں رہا،دہشتگردوں کے پاس ریاست کی رٹ کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں،دھشتگردوں سے مذاکرات کا خمیازہ انکی مزید گروہ بندی کی صورت میں سامنے آیا،ملک میں دائمی قیامِ امن کیلئے سیکیورٹی فورسز مستعد ہیں۔جمعہ کے روز قومی سلامتی کے متعلق پارلیمنٹ کے ا ن کیمرہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ یہ ایک کمپین ہے جو ریاست پاکستان کی پہلے سے منظورشدہ اور جاری حکمت عملی،ڈیٹر، ڈائیلاگ اور ڈویلپمنٹ پر مبنی ہے۔اس کمپین میں سیکیورٹی اداروں کے علاوہ حکومت کے تمام ضروری عناصر شامل ہونگے جیسا کہ قانونی، معاشی، معاشرتی، خارجی وغیرہ وغیرہ۔یہ نیا آپریشن نہیں بلکہ مجموعی طور پر عوام کے غیر متزلزل اعتماد کی عکاسی کرتا ہے اور جس میں ریاست کے تمام عناصر شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسوقت پاکستان میں الحمد اللہ کوئی نو گو ایریا نہیں رہا۔اس کامیابی کے پیچھے ایک کثیر تعداد شہداء و غازیان کی قربانی ہے جنہوں نے اپنے خون سے اس وطن کی آبیاری کی۔ان میں 80 ہزار سے سے زائدنے قربانیاں پیش کیں جن میں 20 ہزار سے زائد غازیان اور 10 ہزار سے زائد شہداء کا خون شامل ہے۔دھشتگردوں کو ریاست کی رٹ کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔دھشتگردوں سے مذاکرات کا خمیازہ انکی مزید گروہ بندی کی صورت میں سامنے آیا۔ملک میں دائمی قیامِ امن کیلئے سیکیورٹی فورسز مستعد ہیں اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں۔ اراکین کے خیالات کے اظہار کے بعد اپنی اختتامی گفتگو میں آرمی چیف نے مزید کہا کہ ہمیں نئے اور پرانے پاکستان کی بحث کو چھوڑ کر “ہمارے پاکستان” کی بات کرنی چاہیئے۔پاکستان کے پاس وسائل اور افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ عوام کے منتخب نمائندے منزل کا تعین کریں اور پاک فوج پاکستان کی ترقی اور کامیابی کے سفر میں انکا بھرپور ساتھ دیگی۔ اراکین قومی اسمبلی نے ڈیسک بجا کر اور تالیوں سے آرمی چیف کے خیالات کا خیر مقدم کیا اور خراج تحسین پیش کیا۔
Load/Hide Comments



