اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو حکم دیا ہے کہ انتخابی اخراجات کے لئے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے جاری کئے جائیں۔ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صوبائی انتخابات کیلئے فنڈز کی عدم فراہمی کے کیس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کو یہ حکم دیا ہے کہ سٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ سے 17 اپریل 2023ء تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو جاری کرے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی جانب سے جمعہ کو جاری کئے گئے اِن چیمبر سماعت کے 9 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک سے 21 ارب روپے وصول کرنے کے بعد الیکشن کمیشن پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے سلسلہ میں فنڈز کے اجراء کا عمل شروع کرے گا۔ عدالت عظمی کی طرف سے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کو حکم دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو 18 اپریل 2023ء تک حکم کی تعمیل پر رپورٹ جمع کرائیں جبکہ الیکشن کمیشن 18 اپریل کو سپریم کورٹ کو رپورٹ میں بتائے کہ اسے انتخابات کے انعقاد کے لیے 21 ارب روپے موصول ہو چکے ہیں۔ تحریری حکمنامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واضح ہے کہ الیکشن کی آئینی ذمہ داری کے لیے 21 ارب روپے کی ادائیگی سے وفاقی حکومت پر مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے حکمنامہ میں کہا ہے کہ رقم کی ادائیگی کی منظوری کے لیے عدالت عظمیٰ کا حکم کافی سمجھا جانا چاہئے جبکہ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 84 کے تحت بادی النظر میں قومی اسمبلی سے منظوری لے سکتی ہے۔ واضح رہے کہ قبل ازیں جمعہ کو یہاں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی ان چیمبر سماعت کی۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل، وزارت خزانہ، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام ان چیمبر سماعت میں شریک ہوئے۔ سماعت کے بعد عدالت عظمی کی طرف سے نو صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جارکیا گیا ہے۔
Load/Hide Comments



