پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی سیاسی جنگ کے شعلے ریاست کی تمام شاخوں کوبھسم اور ملک کو بے مثال انتشار کی طرف دھکیل رہے ہیں،سراج الحق

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی سیاسی جنگ کے شعلے ریاست کی تمام شاخوں کوبھسم اور ملک کو بے مثال انتشار کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ عدلیہ دونوں دھڑوں کے درمیان تازہ ترین جنگ کا میدان بن چکی ہے، کچھ ججوں کو پی ٹی آئی اور کچھ کو مسلم لیگ ن کے ’ہمدرد‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، سپریم کورٹ کے حاضر اور ریٹائرڈ ججوں پر سنگین الزامات لگ رہے ہیں۔ عدالتوں سے کلین چٹ لینے کی بجائے سیاسی جماعتوں کو دوبارہ حکومت حاصل کرنے کے لیے عوام کی طرف جانا ہو گا۔پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی سیاسی اور معاشی معاشی نظم و نسق میں ناکامی کے بعد دوبارہ اسے حاصل کرنے کے لیے آئین کو پاما ل کر رہی ہے۔منصورہ میں وفود سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملکی تاریخ گڈ اینڈبیڈ ججزکی اصطلاحوں اور مرضی کے فیصلوں کے حصول کے سکینڈلز سے بھری پڑی ہے، ابھی تک نظریہ ضرورت دفن نہیں ہوا۔ عدالتیں پورا عدل کریں، کچھ لو اور کچھ دو کی بنیادوں پر فیصلے تو جرگوں اور پنچایتوں میں ہوتے ہیں۔ ایوان بے توقیر، عدالت تقسیم، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن کی جانبداری پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی لڑائی میں سیاسی و معاشی کے ساتھ آئینی بحران بھی پیدا ہوا۔ پارلیمانی پارٹیوں کو مذاکرات کے لیے کہا ہے، منصورہ کا پلیٹ فارم بھی آفر کردیا، سیاستدانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو حالات اس نہج تک پہنچ جائیں گے جہاں کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا، یہ ملک ہے تو ہم سب ہیں اور سیاست چلتی رہے گی۔ حکمران جماعتیں عوام کو کتنی تکلیفیں پہنچائیں گی،مہنگائی، بے روزگاری، غربت نے غریبوں کا جینا جہنم بنا دیا، چترال سے کراچی عوام پریشان ہیں۔ قومی انتخابات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا، عوام سے فیصلہ لیا جائے۔ امیر جماعت نے کہا کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی میں جنگ جاری رہی تو انارکی پھیلے گی، یہی دشمنوں کی خواہش ہے، انھیں ایٹمی اسلامی ملک قبول نہیں، بدقسمتی سے ملک پر سالہاسال سے مسلط حکمران طبقہ استعمار کا سہولت کار ہے، انھوں نے قوم پر قرضوں کا کوہ ہمالیہ مسلط کیا، آج ہر شہری تین لاکھ کا مقروض ہے، آئی ایم ایف حقیقی معنوں میں فیصلہ ساز ہے، عالمی مالیاتی ادارے کے بابو واشنگٹن سے ہدایات جاری کرتے ہیں اور اسلام آباد میں بیٹھے حکمران انھیں لاگو کرتے ہیں۔