اسلام آباد (آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء اسد عمر نے کہا ہے کہ عمران خان سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیلئے انڈرٹیکنگ دینے کو تیار ہیں، عدالت کے کہنے پر حکومت کی طرف سے بھی انڈرٹیکنگ ہونی چاہئے، جنہوں نے5 ماہ تباہی کی، انہیں مزید حکومت دینے کی منطق پیدا کی جا رہی ہے جبکہ فوادچوہدری کا کہنا ہے یہ حکومت خود سپریم کورٹ کے حکم کے نتیجے میں قائم ہوئی، حکومت کو پسند ہو یا نہ ہو الیکشن ہونے ہیں،پارلیمنٹ میں آج جو بحث ہوئی وہ بڑی خوفناک ہے۔بدھ کے روز قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 متفقہ طور پر قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعدمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر کا کہناتھا عمران خان سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے انڈرٹیکنگ دینے کو تیار ہیں، چیف جسٹس آزادانہ ماحول کا کہہ رہے ہیں، چیف جسٹس اہم بات کررہے تمام جماعتیں ایک لائحہ عمل بنائیں، چیف جسٹس کی یہ مثبت بات کہ سب کو اکٹھا کرنا چاہتے، عمران خان انڈرٹیکنگ دینا چاہتے ہیں حکومت کی طرف سے بھی انڈرٹیکنگ ہونی چاہئے۔چیف جسٹس سیاستدان نہیں ان کا کام آئین پر عملدرآمد کروانا ہے، یہی چیف جسٹس تھے جن کے حکم پر پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوئی، انہی چیف جسٹس کے فیصلوں پر پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے متعدرہنماوں کو گرفتارکرکے غائب کیا گیا۔ صاف اور شفاف الیکشن کا ماحول پیدا ہی نہیں کیا جا رہا ہے۔ جنہوں نے تباہی کی انہیں کو 5 مہینے مزید حکومت دینے کی منطق پیدا کی جا رہی ہے۔ اسموقع پر پی ٹی آئی رہنماء فواد چوہدری نیکہا کیا یہ حکومت جمہوری طریقے سے منتخب ہو کر آئی،جواب ہے نہیں،یہ حکومت از خود آرڈر کی پروڈکشن ہے۔اسی عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں یہ حکوت بنی،پارلیمنٹ میں جو بحث ہوئی وہ بڑی خوفناک ہے،پی ڈی ایم کو امیدوار نہیں مل رہے انہوں نے الیکشن کیا لڑنا ہے،الیکشن ہونے ہیں حکومت کو پسند ہو یا نہ ہو۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ معاشرے کو بہتر کرنا ہے تو رول آف لاء ہونا چاہیے،آج ہم سپریم کورٹ میں آئینی کی بالادستی کیلئے آئے،تحریک انصف کبھی ٹیبل ٹاک سے نہیں گھبرائی،رانا تنویر نے جو تقریر کی اس سے میرا سر شرم سے جھک گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پر امید ہیں مینڈیٹ ملے گا تو بیساکھیوں کی ضرورت نہیں پڑے گی،ہم بڑے زاویے سے عوامی فلاح و بہبود کیلئے کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ ہم جوڈیشل سسٹم میں ریفارمز کرنا چاہتے ہیں،آج ریٹائرڈ ججز کا وفد بھی عمران خان سے ملا،297 ریٹائرڈ ججز نے بھی ان سے اظہار یک جہتی کیا ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ معاشرے کو بہتر کرنا ہے تو رول آف لاء ہونا چاہیے،آج ہم سپریم کورٹ میں آئینی کی بالادستی کیلئے آئے،تحریک انصف کبھی ٹیبل ٹاک سے نہیں گھبرائی،رانا تنویر نے جو تقریر کی اس سے میرا سر شرم سے جھک گیا ہے۔
Load/Hide Comments



