راولپنڈی (آن لائن) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، صوبائی حکومتیں اور فوج مل کر سیلاب سے بڑے پیمانے پرہونیوالے نقصانات کے تخمینے کیلئے سروے کریں گے، سیلاب زدگان کی امداد کے لیے اپیل پر بہت اچھا رسپانس ہے ، دوست ممالک نے پاکستان کو مصیبت میں کبھی اکیلا نہیں چھوڑا، انشا اللہ آئندہ بھی نہیں چھوڑیں گے،این سی او سی کی طرز پر ہیڈ کوارٹر بنایا گیا ہے جہاں امداد کا ڈیٹا اکھٹا ہو گا، ہیڈ کوارٹر سے وزیر منصوبہ بندی امداد ادھر بھجوائیں گے جہاں ضرورت ہو گی،راشن کا نہیں، خیموں کا مسئلہ ہو گا، بیرون ملک سے خیمے منگوانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم انشااللہ متاثرین کو پری فیب گھر بنا کر دیں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔ آرمی چیف نے خواتین، بچوں،بزرگوں،سیاحوں ودیگر افرادسے ملاقات کی ان افرادکوآرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کمراٹ اور کالام سے کانجو منتقل کیا گیا تھا۔کانجو کینٹ لائے گئے متاثرین میں ٹورسٹ فیملیز بھی شامل ہیں۔ متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقام پر منتقل کئے گئے افراد نے پاکستان آرمی کا شکریہ ادا کیا۔متاثرین کا کہناتھا جب انہیں فوج کی ضرورت پڑی تو وہ پاک فوج کے جوان مدد کیلئے پہنچے۔پاک فوج کے اس اقدام سے انہیں اور ان کے گھر والوں کو بھی راحت پہنچائی۔آرمی چیف نے کانجو کینٹ ہیلی پیڈ پر میڈیا کے نمائندوں سے بھی مختصر گفتگو کی اور کہا کہ سیلاب کے شدید نقصانات کا تخمینہ لگانا ابھی باقی ہے۔سیلاب سے بڑے پیمانے پرہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے ضلعی انتظامیہ، صوبائی حکومتیں اور فوج مل کر سروے کریں گے، آرمی چیف نے کہا کالام میں کافی نقصان ہوا ہے۔ پل اور ہوٹل بہت تباہ ہوئے ہیں۔ دوہزار دس کے سیلاب میں بھی یہاں ایسی ہی تباہی ہوئی اور دوبارہ انہی جگہوں پر تعمیرات کر نے کی اجازت دے کر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ذمے داران کے خلاف قانونی کاروائی ہونی چا ہئیے۔ آرمی چیف نے کہا اس وقت سب سے ضروری کالام روڈ کا کھولنا ہے۔ امید ہے 6سے 7 دنوں میں روڈ کو کھول دیں گے۔ کالام میں پھنسے لوگوں کو نکال رہے ہیں۔کالام میں اب بحران کی صورت حال نہیں۔ آرمی چیف نے کہا اس وقت مختلف فلاحی اداروں،سیاسی جماعتوں اور افواج پاکستان نے اپنے ریلیف سنٹر کھولے ہوئے ہیں۔این سی او سی کی طرز پر ہیڈ کوارٹر بنایا گیا ہے جہاں امداد کا ڈیٹا اکھٹا ہو گا۔ہیڈ کوارٹر سے وزیر منصوبہ بندی امداد ادھر بھجوائیں گے جہاں ضرورت ہو گی۔ لوگوں کا ریسپانس بہت اچھا آرہا ہے، کئی کئی ٹن راشن اکٹھا ہو رہا ہے۔راشن کا نہیں، خیموں کا مسئلہ ہو گا، آرمی چیف کا کہناتھا بیرون ملک سے ٹینٹس منگوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔فوج کی طرف سے بھی خیمے فراہم کیے جارہے ہیں۔سندھ اور بلوچستان میں خیموں کی زیادہ ضرورت ہے، آرمی چیف نے کہا یو اے ای، ترکی اور چین سے امدادی سامان کی پروازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔سعودی عرب اور قطر سے بھی پروازیں آنا شروع ہو جائیں گی؛ پیسے بھی آئیں گے۔ دوست ممالک نے پاکستان کو مصیبت میں کبھی اکیلا نہیں چھوڑا، انشا اللہ آئندہ بھی نہیں چھوڑیں گے۔
Load/Hide Comments



