اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے انٹیلی جنس بیورو کی طرف سے سیاستدانوں سمیت مختلف شخصیات کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ آئی بی کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے طے شدہ مینڈیٹ سے باہر نہیں نکلے حساس معلومات کی وجہ سے بعض ٹیلی فون ٹیپ کرنا پڑتے ہیں مگر ہر وقت سیاستدانوں کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے کے الزامات میں صداقت نہیں ہے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا بند کمرے میں اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس کی صدارت چیئرمین رانا مقبول احمد نے کی۔ اجلاس ان کیمرہ ہونے کی وجہ سے میڈیا کو کوریج کی اجازت نہ دی گئی۔ ڈی جی انٹیلی جنس بیورو فواد اسد اللہ نے ادارے کی مجموعی کارکردگی بارے تفصیلی بریفنگ دی جس پر کمیٹی اراکین کامل علی آغا، سیف اللہ نیازی، مشتاق احمد، سعدیہ عباسی اور رخسانہ زبیری نے اطمینان کا اظہار کیا تاہم ذرائع کے مطابق آئی بی کے سیاسی کردار بارے بھی اراکین نے تندوتیز سوالات کئے جس پر ڈی جی آئی بی کا کہنا تھا کہ ہمارا کوئی سیاسی کردار نہیں ہم حکومت کو جوابدہ ہیں۔ دہشتگردی کے خاتمے میں آئی بی نے اہم کردار ادا کیا اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی کیا۔ ہمارے کئی اہلکار دہشتگردی کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید اور زخمی بھی ہوئے۔ ہمارا کردار اور مینڈیٹ واضح ہے اہم ملکی معاملات پر حکومت کو رپورٹس بجھوانا اور اپڈیٹ کرنا کوئی نیا کام نہیں اس حوالے سے حکومت کو تجاویز بھی دیتے ہیں اور ایک سرکاری ادارہ ہونے کی وجہ سے اپنا کردار بھی نبھاتے ہیں۔
Load/Hide Comments



