اسلام آباد (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ شہباز گل نے جو بات کی ہو وہ ٹھیک نہ ہو لیکن واضح قانون موجود ہے، بندوق کی بٹ مار مار کر شیشے توڑ کر گاڑی سے نکال کر حراست میں لینا واضح کرتا ہے کہ یہ حکومت خود کو اندر سے کھوکھلا محسوس کررہی ہے۔بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں اسد عمر نے کہا موجودہ صورتحال پیدا ہونے کی وجہ 17 جولائی کا دن ہے جب ضمنی انتخابات میں عوام نے اس مصنوعی امپورٹڈ نظام کو مسترد کردیا اور ان سے پنجاب کا اقتدار چھین لیا، اس کے بعد سے یہ کھلبلی مچی ہوئی ہے، یہ بوکھلاہٹ یکا شکار ہیں اور ان کو سمجھ نہیں ا?رہی کہ کس طرح اس کو روکا جائے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہوگئی ہے جو اب پاکستان کے پرانے روایتی سیاسی نظام کے لیے خطرہ بن گیا ہے، اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے پہلے فرمائشی پریس کانفرنسیں کی گئیں جس کے بعد الیکشن کمشین کی ایک رپورٹ ہمارے سامنے آگئیبعد 18 سے 20 کانفرنسیں کرکے اس رپورٹ کی بنیاد پر طوفان کھڑا کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے، ایک ٹی وی کی نشریات بند کی گئی، آدھی رات کو ان کے سینیئر وائس پریذیڈینٹ عماد یوسف کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی اور رات ڈیڑھ بجے انہیں حراست میں لے لیا گیا، ان کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال اور اینکرز کے خلاف بھی ایف آئی آر کاٹ دی گئیں۔اسد عمر نے کہا کہ صحافت کرنے والے دیگر افراد بھی یہ جانتے ہیں کہ یہ سلسلہ یہاں رکے گا نہیں، جو بھی آواز اٹھائے گا اور حقیقت سامنے لے کر آئے گا اس کے ساتھ بھی یہی ہوگا، ایک ایک کرکے سب کی باری ا?نے والی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہباز گل نے جو کہا ہوسکتا ہے آپ کو اس سے اتفاق نہ ہو کہ انہوں نے ٹھیک بات نہیں کی لیکن واضح قانون موجود ہے آپ عدالت کے سامنے جا کر مقدمہ بنائیں اور وہاں ان سے سوال کریں کہ آپ نے ایسا کیوں کہا، وضاحت طلب کریں، بندوق کی بٹ مار مار کر شیشے توڑ کر گاڑی سے نکال کر حراست میں لینا اور پرائیوٹ گاڑی میں لے جانا واضح کرتا ہے کہ یہ حکومت خود کو اندر سے کھوکھلا محسوس کررہی ہے، طاقت کے استعمال سے ان کی آخری پھڑپھڑاہٹ نظر آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ان شا اللہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
Load/Hide Comments



