اسلام آباد (آن لائن)پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے مقبوضہ جموں و کشمیر بارے بیان پر بھارتی وزارت خارجہ کے تبصرے کو مضحکہ خیز قراردیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا تبصرہ مضحکہ خیز، دعوے جھوٹے اور قابل مذمت ہیں۔’ہندوتوا’ کے بے باک پریکٹیشنر کا دوسروں پر ‘تعصب’ یا ‘فرقہ وارانہ ایجنڈے’ کا الزام لگانا حیران کن ہے۔انسانی حقوق کی پامالیوں، ریاستی دہشتگردی کو فروغ دینے والے کا انگلیاں اٹھانا تشویشناک ہے، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا او آئی سی اسلامی ممالک کی 1.7 ارب سے زیادہ مسلم آبادی کی نمائندگی کرنے والا بڑا کثیرالجہتی فورم ہے۔ او آئی سی فورم ہمیشہ کشمیری عوام کے جائز حقوق کی حمایت میں آواز اٹھاتا رہا ہے۔کشمیری، بھارت کے سات دہائیوں سے زائد طویل غیر قانونی قبضے، بے دریغ جبر کا ناقابل بیان نقصان اٹھا چکے ہیں، ترجمان نے کہا جموں و کشمیر نہ کبھی ہندوستان کا حصہ تھا اور نہ کبھی ہوگا۔جموں و کشمیر، پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی تسلیم شدہ “متنازعہ” علاقہ ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر 1947ء سے زبردستی غیر قانونی ہندوستانی قبضے میں ہے۔تنازعہ تقریباً 75 سالوں سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔ترجمان دفترخارجہ کا کہناتھا ا قوام متحدہ سلامتی کونسل قراردادیں کشمیریوں سے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کا عہد کرتی ہیں، قراردادیں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں آزادانہ، غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا وعدہ کرتی ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم، ناانصافی کے ساتھ سماجی، اقتصادی ترقی کے دعویٰ کرکے دنیا کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ہندوستان کی کوئی بھی تکرار جھوٹ کو سچ میں نہیں بدل سکتی۔انہوں نے کہا بھارت، انصاف اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، سلامتی کے مفاد میں تنازعہ کشمیر حل کرے۔ بھارت تنازعہ جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل قراردادوں پر دیانتداری سے عمل درآمد کرے۔ہندوستان کو کشمیریوں اور عالمی برادری کے ساتھ اپنے وعدوں کا احترام کرنا چاہیے۔
Load/Hide Comments



