سینیٹر رضا ربانی کا ہیلی کاپٹر شہداء کے نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے پر صدر پاکستان عارف علوی پر شدید تنقید

اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ کے سابق چیئرمین اور پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر رضا ربانی نے لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے اعلیٰ فوجی آفسران کے نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے پر صدر عارف علوی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے فوری استعفے کا مطالبہ بھی کر دیا۔اپنے ایک بیان میں رضا ربانی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 243 کی شق 2 کے تحت صدر افواج پاکستان کا سپریم کمانڈر ہوتا ہے، کسی بھی سیاسی وابستگی کی بنا پر اگر وہ سپریم کمانڈر کے فرائض سرانجام نہ دے سکے تو اسے فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہئے، سپریم کمانڈر کا کسی بھی وجہ سے فوجی ہیلی کاپٹر کے شہداء کے نمازہ جنازہ میں شرکت نہ کرنا گہری تشویش کا باعث ہے، شہید ہونے والے فوجی افسران فوج کی اعلیٰ کمانڈ کا حصہ تھے، صدر مملکت ان کے حوالے سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے جو کہ قابل افسوس ہے،صدر عارف علوی اب بھی پی ٹی آئی کے ورکر کے طور پر کام رہے ہیں اور صدر پاکستان کے دفتر کے وقار کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھ رہے،اس سے پہلے بھی صدر مملکت نے سیاسی وابستگیوں کی بنا پر اپنے فرائض قانون کے خلاف انجام دیئے، صدر نے پارلیمنٹ کو کئی مواقعوں پر اپنے کام سے روکا اور آرڈیننسز جاری کرتے رہے۔ پی ایم ڈی سی آرڈیننس دوبارہ جاری کر کے پارلیمنٹ کی خواہش کی خلاف ورزی کی حالانکہ سینیٹ پی ایم ڈی سی آرڈیننس مسترد کر چکی تھی، عدالتوں سے مسترد ہونے والے کئی افراد کو مختلف اداروں کا سربراہ بنا دیا، ججز کے خلاف ناقص ایڈوائس پر مبنی ریفرنسز بھیجے جنہوں نے عدالتوں نے کالعدم قرار دیا، بلوچستان سے این ایف سی کا ممبر نامزد کرنے پر نوٹیفکیشن جاری کیا،جسے کالعدم قرار دیا گیا، وزیر اعظم کے ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کر دی حالانکہ اس وقت عمران خان کو آرٹیکل 95 کے تحت عدم اعتماد اور نااہلی کا سامنا تھا،انہوں نے کہاکہ یہ چند مثالیں ہیں اور ان کو سامنے رکھتے ہوئے صدر عارف علوی کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہئے کیونکہ وہ کسی بھی طور صدر کے دفتر کے فرائض انجام دینے میں ناکام رہے.