اسلام آباد (آن لائن) اسپیکر قومی اسمبلی را جہ پرویز اشرف اور ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ناگزیر ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو اس کی اصلی صورت میں بحال کیا جاے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر اپنے علیحدہ علیحدہ پیغامات میں کیا۔ اسپیکر نے کہا کہ مودی سرکار کی فاشسٹ حکومت نے بھارت کے آئین سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر کے کشمیری عوام کی تحریک آزادی پر شب خون مارا اورانہیں شناخت سے محروم کر دیا ہے جو عالمی سطح پر کشمیریوں سے کیے گئیوعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ بالا آرٹیکل کی منسوخی بھارت حکومت کی نفرت انگیز پالیسیوں کی عکاسی ہے۔اسپیکر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پوری پاکستانی قوم متحد ہے اور پاکستانی قوم کا بچہ بچہ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے تمام بین الاقوامی اور علاقائی فورموں پر کشمیریوں کا مقدمہ بھرپور انداز سے لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی قوم اور میڈیا پر یوم استحصال کشمیر کے موقع پر اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر زور دیا۔سپیکر نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے استعمال کو بند کرنے کیلیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کشمیری حریت رہنما یاسین ملک پر بھارت کی طرف سے عمر قید کی سزا سنائے جانے اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی سختی سے مذمت کرتے ہوے کہا کہ بھارت اپنے فاشسٹ اقدامات سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نہیں دبا سکتا۔ انہوں نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی وہ یاسین ملک سمیت بھارتی جیلوں میں قید تمام حریت رہنماوں کے رہائی کیلیے اپنا کردار ادا کریں۔ا سپیکر قومی اسمبلی نے اس امید کا اظہار کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں جلد ہی آزادی کا سورج طلوع ہو گا اور وہاں کے لوگ پرامن ماحول میں زندگی گزار سکیں گے۔
Load/Hide Comments



