ممنوعہ فنڈنگ اور16 کمپنیوں کے اکاؤنٹس چھپانے کا الزام ثابت،عمران خان نے جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا،الیکشن کمیشن کا متفقہ فیصلہ

اسلام آباد(آن لائن) تحریک انصاف کے خلاف 34غیر ملکی شخصیات سے ممنوعہ فنڈنگ لینے اور16کمپنیوں کے اکاونٹس پوشیدہ رکھنے کا الزام ثابت ہوگیا جبکہ عمران خان نے جھوٹا بیان حلفی دیا۔الیکشن کمیشن نے متفقہ فیصلہ سنا دیا۔ پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تحریک انصاف کے ممنوعہ فنڈنگ سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سنایا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ ثابت ہوگیا کہ تحریک انصاف نے 34غیر ملکی شخصیات سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی ہے۔ تحریک انصاف نے عارف نقوی سمیت 34 غیر ملکیوں سے فنڈز لیے، تحریک انصاف نے 8 اکاؤ نٹس ظاہر کیے جبکہ 13 پوشیدہ رکھے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ یہ 13 نامعلوم اکاونٹس سامنے آئے ہیں جن کا تحریک انصاف ریکارڈ نہ دے سکی۔ چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے پڑھے جانے والے مختصر فیصلے کے مطابق امریکا، آسٹریلیا اور یو اے ای سے عطیات لیے گئے اورپی ٹی آئی ان اکاؤنٹس کے بارے میں بتانے میں ناکام رہی ہے۔ آئین کے تحت اکاؤ نٹس چھپانا غیر قانونی ہے جبکہ پی ٹی آئی نے 34 غیر ملکیوں، 351 کاروباری اداروں اور کمپنیوں سے فنڈز لیے پی ٹی آئی نے عارف نقوی کی کمپنی ووٹن کرکٹ سے ممنوعہ فنڈنگ 21 لاکھ 21 ہزار 500 امریکی ڈالرز ممنوعہ فنڈنگ لی،اسی طرح یو اے ای کی کمپنی برسٹل انجنیئرنگ سروسز سے 49 ہزار 965 ڈالرز ممنوعہ فنڈنگ لی فیصلے کے مطابق سیا سی جماعتوں کے ایکٹ کے آرٹیکل 6 سے متعلق ممنوعہ فنڈنگ ہے تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے جو فارم ون جمع کرایا وہ غلط بیانی اور جھوٹ پر مبنی ہے۔