ایوان بالا نے مالی ذمہ داری اور قرضہ کی حد سے متعلق ترمیمی بل 2022کثرت رائے سے منظور کر لیا

اسلام آباد(آن لائن)ایوان بالا نے مالی ذمہ داری اور قرضہ کی حد سے متعلق ترمیمی بل 2022کثرت رائے سے منظور کر لیا،بل کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن اراکین نے چیرمین سینیٹ ڈائس کے سامنے شدید احتجاج کیا اور بل کو متعلقہ کمیٹی بھجوانے کا مطالبہ کیا۔جمعرات کے روز سینٹ اجلاس کے دوران وزیر برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے مالی ذمہ داری اور قرض حد ایکٹ 2005میں مذید ترمیم کا بل پیش کیا اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے بل کو متعلقہ کمیٹی میں بھجوانے کا مطالبہ کیا تاہم چیرمین سینیٹ نے کہاکہ سینیٹ خزانہ کمیٹی کے چیرمین نہیں ہیں اورکمیٹی فعال نہیں ہے لہذا اس وقت بل کو کمیٹی میں بھجوانا مناسب نہیں ہے اس موقع پر سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ اس بل کی بعض شقوں سے متعلق تحفظات ہیں اوراس کو درست کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہاکہ اگر سینیٹ خزانہ کمیٹی کے چیرمین نہیں ہیں تو اس کا آج ہی تقرر کرکے کل اس میں بل پر بحث کر لیں اس موقع پر وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہاکہ آج تک ہماری حکومت نے کوئی آرڈیننس جاری نہیں کیا جبکہ سابقہ حکومت نے 15منٹوں میں 36بل بغیر پیش کئے منظور کرائے اور یہ پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا انہوں نے کہاکہ اگر ہم سابقہ حکومتوں کے بلز کو منظور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس میں ہمارے ساتھ تعا?ن کریں اس موقع پر سابق وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین نے کہاکہ یہ بہت اہم بل ہے ابھی بجٹ سر پر ہے اور خزانہ کمیٹی نہیں بنی ہے انہوں نے کہاکہ سینیٹر مشتاق کے تحفظات ہیں تو اس کو کمیٹی میں بھجوا دیں سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ اگر کمیٹی نہیں بنی ہے تو یہ اس ایوان کا مسئلہ نہیں ہے کسی کو بھی کمیٹی کا قائمقام چیرمین بنا لیں انہوں نے کہاکہ اس ایوان کا تشخص مجروح ہورہا ہے اس بل کو خزانہ کمیٹی میں بھجوا دیں سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ اگر اس ایوان سے بلز کو بلڈوز کرنا ہے تو الگ بات ہے اصولی طور پر بلز کو متعلقہ کمیٹی میں بھجوانا ضروری ہے اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہاکہ یہ بل ایک سال سے پڑا ہے یہ موجودہ اپوزیشن کا بل ہے اور حکومتی اراکین نے بھی اس کو دیکھا ہے انہوں نے کہاکہ ہم ابھی تک قرضوں کی منجمنٹ درست طریقے سے نہیں کرسکے ہیں اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ قواعد کے تحت یہ بل ایوان میں پیش کیا گیا ہے یہ بین الاقوامی سطح پر ہماری ضرورت ہے عالمی برادری کہتی ہے کہ پاکستان وعدے کرتا ہے مگر اس کو پورا نہیں کرتا ہے اس معاملے پر سیاسی سکورنگ نہ کریں اس موقع پر اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ یہ بل اہمیت کا حامل ہے اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے سینیٹر دلا?ر خان نے کہاکہ اگر موجودہ حکومت اہم بل منظور کرنے جارہی ہے تو اس ایوان کو اعتماد میں لیا جائے ہمیں اس بل کو دیکھنے اور پڑھنے کیلئے ٹائم دیا جائے اس موقع پر قائد ایوان سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اگر اس بل میں کسی قسم کی کمی ہے تو اس کو دور کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ یہ قومی ضرورت ہے اس کو پیش کرنے کی اجازت دی جائے اس موقع پر وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا نے مالی ذمہ داری اور قرضے کی حد سے متعلق ترمیمی بل2022ایوان میں پیش کیا بل کی شق وار منظوری کے بعد چیرمین سینیٹ نے بل کو منظور کر لیا بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن اراکین نے چیرمین ڈائس کے سامنے شدید احتجاج کیا اور نو،نو کے نعرے لگائے۔