کراچی (آن لائن)وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے کی سیلاب سے متاثرہ زمینوں کی بحالی کے لیے برطانوی اور ہالینڈ کے ماہرین کی رہنمائی اور تکنیکی معاونت کی ضرورت پڑے گی تاکہ ان کو دوبارہ بحال کرکے معمول پرلایاجاسکے۔ وہ برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر سے ملاقات کے دوران گفتگوکررہے تھے۔ ملاقات میں میں ڈپٹی ہائی کمشنر سارہ مونی، ڈائریکٹر ڈیولپمنٹ سینڈرا بالڈون اور ڈپٹی ڈائریکٹر بتول زہرہ نے شرکت کی جبکہ وزیراعلیٰ کی معاونت ان کے معاون خصوصی سید قاسم نوید، چیف سیکرٹری سہیل راجپوت اور وزیراعلیٰ کے سیکرٹری رحیم شیخ نے کی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر زرعی زمینیں زیر آب رہیں تو ان کی زرخیزی ختم ہو جائے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ برطانیہ اور نیدرلینڈ کے ماہرین زمینوں کا دورہ کرکے ایک اسٹڈی پلان تیار کریں اور ان کی جلد اور بہتر بحالی کے حوالے سے ہماری تکنیکی مدد کریں تاکہ انہیں جلد سے جلد فصل کی کاشت کے لیے تیار کیا جاسکے۔ اس پر برطانوی ہائی کمشنر نے وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت اس حوالے سے سندھ کی بھرپورحمایت کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں اور چیف سیکریٹریسندھ ہالینڈ کے ماہرین سے رابطہ کریں گے اورایک ایکشن پلان تیار کرنے کے حوالے سے ان سے درخواست کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی،حالیہ شدیدبارشیں اورپہاڑوں سے داخل ہونے والے سیلابی پانی کی نکاسی آب کے لیے ہمیں مستقبل میں مناسب نظام کی تعمیر کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پورے سندھ میں پرانی اور قدرتی آبی گزرگاہوں کو بحال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو برطانوی حکومت اور ڈونر ایجنسیوں کی ماہرانہ اور تکنیکی مدد کی بھی ضرورت ہے۔ اجلاس کے آغاز میں برطانوی ہائی کمشنر نیشدید بارشوں کے دوران جانی نقصان پر اظہار تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے سندھ حکومت کا ساتھ دے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سفارت کار کو دریائے سندھ کے دونوں پشتوں پر شدید بارشوں اور پہاڑوں سے داخل ہونے والے سیلابی پانی سے ہونے والی تباہی کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھیر تھر کے پہاڑی سلسلے کا منچھر جھیل پر ختم ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔چھ فٹ اونچا حفاظتی بندپہاڑی سے داخل ہونے والے دھاروں پر قابو پانے میں ناکام رہا اورجس سے اس میں متعدد شگاف پڑے اور اس کی وجہ مختلف شہر اور قصبے زیر آب آ گئے۔ اسی طرح ایل بی او ڈی اور اسپائنل ڈرین پانی کی کثیر مقدار کو شکور جھیل یا سمندر میں آسانی سے بہا نہیں لے جاسکتی۔ہمیں بائیں کنارے پر پرانے واٹر ایسکیپز / ڈورا کو بھی بحال کرنا ہوگا۔ مراد علی شاہ نے برطانوی سفیر کو بتایا کہ 15 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے ہیں اور انہیں رہنے کے لیے خیموں کی اشد ضرورت ہے۔ اس پر برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ ان کی حکومت 50 کنٹینرز بھیج رہی ہے جو غیر خوراکی اشیاء پر مشتمل ہوں گے جس میں خیمے، پلاسٹک کی چادریں اور دیگر سامان سے لدے ہوں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے برطانوی حکومت کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کے اختتام پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ امدادی سامان کی طلب اور رسد کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گاتاکہ امدادی کاموں میں مزید بہتری لائی جاسکے.
Load/Hide Comments



