آج دور میں ایمانداری اور حقائق پر مبنی خبر دینا بڑے ثواب کا کام ہے،راجہ پرویز اشرف

اسلام آباد(آن لائن) اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ آج کے دور میں جھوٹی اور حقائق کے منافی خبریں جن کا حقیقت سے دور تک تعلق نہیں ہوتا پھیلائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مذہب بغیر تحقیق کے کسی بات کو پھیلانے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا حقائق پر مبنی خبر دینا آج کے دور میں بڑے ثواب کا کام ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسپیکر نے کہا کہ میڈیا عوام اور عوامی نمائندے کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے، میں پی آر اے کو پارلیمنٹ کا حصہ سمجھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں نے حلف اٹھانے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو ہدایت جاری کی کہ میڈیا کے نمائندوں کو درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے، میڈیا پارلیمنٹ کا حصہ ہونے کہ ناطے پارلیمنٹ کی کارروائی کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی حضرات پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ سے متعلق درست خبر عوام تک پہنچائیں اور اس مقدس ادارے کے خلاف چھپنے والی جھوٹی خبروں کی تردید کریں اور غلط خبر دینے والوں کا محاسبہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹی خبروں کے سدباب کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور اس سلسلے میں اگر ان کو کوئی معلومات چاہییں ان سے یا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اگر ہم کوئی خلاف قاعدہ کام کریں تو صحافی برادری کا پورا حق ہے وہ ہم پر تنقید کرے اور وہ ہماری رہنمائی کرے، تاہم اگر کوئی اس معزز ادارے کی بے توقیری کرے تو اس کا محاسبہ کرنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ ہم سب کی اور سب نے ملکر اسکے وقار کو بلند کرنا ہے۔دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس میں شرکت کرنے والے پارلیمانی وفد سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی بے بنیاد اور من گھڑت اور حقائق کے منافی خبروں کا ذکر کرتے ہونے اسپیکر نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ کانفرنس کے طے کردہ معیار کے مطابق پاکستان کی وفاقی پارلیمان کل پانچ ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ شرکت کر سکتی تھی۔ ان پانچ میں سے بھی دو ارکان کا تعلق سینٹ اور تین کا، بشمول اسپیکر، قومی اسمبلی سے تھا۔ انہوں نے کہا صرف ایک رکن اسمبلی رومینہ خورشید عالم کے ہمراہ میں نے کانفرنس میں شریک کی جبکہ دو ارکان سینٹ میرے ہمراہ تھے۔ اسپیکر نے کہا کہ یہ امر انتہائی افسوس ناک کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے اس خبر کی تردید کرنے کے باوجود بعد میڈیا ہاؤسز نے بغیر کسی تحقیق کے مملکت کے معتبر ترین ادارے پر کیچڑ اچھالا۔