اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کو غیر ضروری ہراساں کرنے سے روک دیا اور ریمارکس دیئے کہ وہ کام نہ کریں جو ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں،بلاوجہ لوگوں کے خلاف مقدمات درج کرنا اچھی بات نہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سعودی عرب واقعہ اور لانگ مارچ پر درج مقدمات میں ہراساں کرنے سے روکنے کی درخواستوں پر سماعت کی۔حکومت اور سیکرٹری قومی اسمبلیکی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی،سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اورعدالت کو بتایا کہ یہاں جب حکومت تبدیل ہوئی تو توہین عدالت کے کیسز درج ہونا شروع ہو گئے، اس موقع پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ ہے کہشیخ رشید کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے، شیخ رشید کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 25 مئی کو آزادی مارچ پر بھی پورے ملک میں مقدمات درج کئے گئے ہمیں ان سب مقدمات کا بھی ریکارڈ چاہیے،شیخ رشید کے گھر پر کئی بار چھاپے مارے گئے اس موقع پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ عدالت صرف اسلام آباد کی حد تک تک حکم دے سکتی ہے،عدالت نے مزیدکیس کی سماعت 23 ستمبر تک کے لئے ملتوی کردی۔
Load/Hide Comments



