سانس کے ذریعے دی جانے والی دنیا کی پہلی کووڈ ویکسین تیار

بیجنگ (آن لائن) چین دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں ایک ایسی کووڈ 19 ویکسین کی منظوری دی گئی ہے جسے استعمال کرنے کے لیے انجیکشن کی ضرورت نہیں۔ ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس ویکسین کو سانس کے ذریعے جسم کے اندر پہنچایا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین کین سائنو بائیو لاجکس نے تیار کی ہے اور اس کی منظوری بوسٹر کے طور پر دی گئی ہے۔ چین کے نیشنل میڈیکل پراڈکٹس ایڈمنسٹریشن نامی ادارے کی جانب سے ویکسین کو ہنگامی استعمال کے لیے منظوری دی گئی ہے۔ طبی حکام کا کہنا ہے کہا یہ کین سائنو کی سنگل ڈوز ویکسین کا نیا ورڑن ہے اور کمپنی کے مطابق اس کے استعمال سے خلیاتی اور مدافعت متحرک ہوتی ہے۔یہ ویکسین 2 خوراکوں میں استعمال کرائی جائے گی اور ایک کے بعد دوسری خوراک 28 دن بعد دی جائے گی۔کمپنی کے مطابق یہ ویکسین بیماری سے تحفظ فراہم کرنے میں انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسین جتنی ہی مؤثر ہے۔چونکہ ایسی ویکسینز انجیکشن کے بغیر استعمال کی جاسکتی ہیں اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ویکسینیشن سے گھبرانے والے افراد کے لیے قابل قبول ہوں گی۔اس نئی ویکسین کو Ad5-nCoV کا نام دیا گیا ہے اور اس کے لیے نزلہ زکام کا باعث بننے والے وائرس کو استعمال کیا گیا ہے تاکہ مدافعتی نظام کوروناوائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوسکے