اسلام آباد(آن لائن) وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ترکیہ کے وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو، ترکیہ کے وزیر برائے ماحولیات، اربنائزیشن اور موسمیاتی تبدیلی، مرات کورم، چئیرمین ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ (AFAD)، ترک کم لاگت ہاؤسنگ ایجنسی (TOKI) کے ڈائریکٹر جنرل اور ان کے ہمراہ وفد نے ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرنے کے لیے صدر رجب طیب اردوان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس آفت سے نمٹنے اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے ترکیہ کے پاکستان کے ساتھ تعاون کے عزم کو سراہا۔ وزیراعظم نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ صدر اردگان کی فون کال کے فوراً بعد ترکیہ نے سیلاب زدگان کے لیے خیمے، کھانے پینے کی اشیاء ادویات اور ہنگامی امدادی سامان کی صورت میں پاکستان کو امداد بھیجی۔ اب تک 11 ترک فوجی طیارے اور 02 ’سامان سے بھری ٹرینیں‘ پاکستان روانہ کی جا چکی ہیں۔ وزیراعظم نے 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے دوران ترکیہ کی جانب سے پاکستان کے لیے مدد کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ اور پاکستان “دو قلب اور ایک جان ہیں ” اور انہوں نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ وفد کو سیلاب سے ہونے والی تباہی سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ملک میں غذائی عدم تحفظ کا خطرہ ہے کیونکہ سیلاب سے لاکھوں فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ وزیر اعظم نے سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور بحالی کے مرحلے، لوگوں کے روزگار کے نقصان، خوراک کی کمی اور سماجی و اقتصادی عدم تحفظ کی وجہ سے پیدا ہونے والے چیلنجوں پر قابو پانے کیلئے ترکیہ کے بھرپور تعاون کی امید کا اظہار کیا۔ترک وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو نے پاکستان میں حالیہ مون سون اور سیلاب کے دوران قیمتی جانوں کے ضیاع اور قیمتی املاک کی تباہی پر صدر اردگان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
Load/Hide Comments



