لاہور (آن لائن)گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے یونیورسٹیوں کی علیحدہ پولیس بنانے کی تجویز دے دی۔ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی شکایات بہت ذیادہ ہیں۔منشیات کا استعمال روکنے کے لیے بھی کنشورشیم بنے گا۔گورنر پنجاب نے وائس چانسلرز کانفرنس کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی۔جس میں چیئر مین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر شاہد منیر اور مختلف جامعات کے وائس چانسلرز کی شرکت۔پرنسپل سیکرٹری ٹو گواعوان بھی اس موقع پر موجود تھے۔اجلاس میں وائس چانسلرز کوہسار یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حبیب بخاری، ایجوکیشن یونیورسٹی ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز ڈاکٹر نسیم احمد، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر بشری مرزا کی شرکت کی۔اجلاس میں چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بتایاکہ وائس چانسلرز کانفرنس ستمبر کے آخر مری میں میں منعقد کی جائے گی۔ کانفرنس میں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز شرکت کریں گے جبکہ 7 شعبوں میں مختلف کنسورشیم بنائے جائیں گے.کانفرنس میں کنسورشیم کے حوالے سے سٹیرنگ کمیٹیاں بنائی جائیں گی.اور کنسورشیمز کے ٹی او آرز طے کیے جائیں گے۔پنجاب ہائر کمیشن ماحولیات سمیت مختلف مسائل کے حل کے لیے کنسورشیمز کی سفارشات پنجاب کابینہ کو بھیجے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ دنیا میں ہر جگہ یونیورسٹیوں کی اپنی پولیس ہوتی ہے.اس کے حل کے لیے بین الاقومی معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے جامعات کی اپنی پولیس بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیات، ویمن ایمپارمنٹ تعلیمی اداروں میں منشیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کردار سازی، سمیت 7 شعبوں میں کنسورشیم بنانے جائیں گے.۔یہ کنسورشیم اکیڈیمیہ اور انڈسٹری کے درمیان رابطہ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔صنعتی شعبے کے ساتھ اشتراک (Industrial collaboration) پر بھی کنسورشیم بنے گا.تعلیمی درسگاہوں میں منشیات کے استعمال کی شکایات بہت ذیادہ ہیں۔تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کو روکنے کے لیے بھی کنشورشیم بنے گا۔
Load/Hide Comments



