کوئٹہ(آن لائن)پاک آرمی اور ایف سی بلوچستان کا سول انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کے ہمراہ سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیواور ریلیف آپریشن جاری کمانڈر 12 کور کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے بلوچستان کی کثیر آبادی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ لوگوں کے جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ شاہراہیں بھی متاثر ہوئی ہیں جس کی وجہ سے امدادی کام میں بھی تعطل آ رہا ہے۔پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان تمام اضلاع میں ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کے ساتھ متاثرین کی خدمت میں شب و روز مصروف ہیں۔ سیلاب میں پھنسے 1000 سے زائد افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتعقل کیا گیاہے۔ *کوئٹہ کے علاقے نواں کلی میں 11 افراد کے سیلابی ریلے میں پھنسنے کی اطلاع ملنے پر پاکستان آرمی ایوی ایشن نے انتہائی خراب موسم اور تیز بارش کے دوران اِن افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا*۔ کوئٹہ میں مسلسل بارشوں سے متاثر ہونے والی کینٹ سے ملحقہ آبادیوں کے متاثریں کو پولیس لائن کوئٹہ کینٹ میں منتقل کر کے کھانا اور دوسری ضروریات مہیا کی گئی ہیں پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان کوئٹہ، مسلم باغ، چمن، سوئی، مچھ، ڈیرہ بگٹی، سبی، لہڑی، نصیر آباد، بیلہ، اوتھل اور جعفر آباد کے علاقوں میں ریلیف کیمپس قائم کرکے پکا ہوا کھانا، اشیاخوردونوش،بستراور دیگر گھریلو اشیافراہم کر رہی ہیں۔سیلاب زدگان کے لیے کوئٹہ، مسلم باغ، سوئی، مچھ، ڈیرہ بگٹی، سبی، دوبندی، لہڑی، سدوری، اراکی ضلع لسبیلہ کے مختلف مقامات پر فری میڈیکل کیمپس قائم کر کے مفت علاج معالجے کی سہولت مہیا کی جا رہی ہے۔ذرائع آمدورفت کی جلدبحالی کیلئے سول انتظامیہ اور پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے شاہراوں اور پلوں کی مرمت کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ حب بائی پاس شاہراہ سے بیلہ تک 6 ٹریفک منیجمنٹ ٹیموں کو تعینات کیا گیا ہیں۔جبکہ آرسی ڈی شاہراہ کو ہر قسم کی آمدورفت کے کھول دیا گیا ہے میری اور لاکھڑا روڈ اور سبی تا رکھنی روڈ کو جو لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہوگیا تھا ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔لنڈا پل میں پانی کی سطح کم ہونے پر مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ جسے جلد مرمت کرکے ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان اپنے تمام تر وسائل کو برئے کار لاتے ہوئے سیلاب ذدگان کے ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں شب وروز مصروف عمل ہے۔
Load/Hide Comments



