اسلام آباد(آن لائن) پی اے سی کو جواب نہیں دے سکتے تو مستعفی ہوجائیں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیرمین نور عالم خان کمیٹی اجلاس کے دوران پی ایس اوکے ایم ڈی پر برس پڑے۔بدھ کے روز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران چیرمین کمیٹی نے پی ایس او کے پٹرول پمپس پر پٹرولیم مصنوعات کے ناقص معیار کی شکایت کی اور کہاکہ جب گاڑی میں پی ایس او سے تیل ڈالتے ہیں تو گاڑی سے آوازیں آتی ہیں جس پر ایم ڈی پی ایس او نے کہاکہ پی ایس او کی پٹرولیم مصنوعات ملک میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں سے بہتر ہے آپ اس کو چیک کرسکتے ہیں ایم ڈی پی ایس او کے اس جواب پر چیرمین کمیٹی برہم ہوگئے اور کہاکہ اگر کمیٹی کو جواب نہیں دے سکتے تو استعفیٰ دیدیں انہوں نے ایم ڈی پی ایس او سے استفسار کیا کہ آپ کو کتنی تنخواہ ملتی ہے جس پر ایم ڈی پی ایس او نے پہلے تو جواب دینے میں ہچکچاہت کا اظہار کیا بعد میں بتایا کہ تمام تر الاؤنسز سمیت 32لاکھ روپے تنخوا ہ لیتا ہوں جس سے ٹیکس بھی کٹ جاتا ہے اس موقع پر کمیٹی کے رکن ایم این اے برجیس طاہر نے کہاکہ اتنی بڑی تنخواہ لیتے ہیں کمیٹی کو بتائیں کہ آپ کی کارکردگی کیا ہے چیرمین کمیٹی نے کہاکہ پی ایس او سمیت او جی ڈی سی ایل،ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی پی ایل سمیت پبلک سیکٹر اداروں میں تعینات ایم ڈیز اور بورڈ آف گورنر کے چیرمین اور ممبران بڑی بڑی تنخواہیں اور مراعات وصول کرتے ہیں مگر ان کی کارکردگی صفر ہے اور اداروں کی بہتری کیلئے کوئی کام نہیں کرتے ہیں انہوں نے ایم ڈی پی ایس او کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تمام افسران پی اے سی کو جواب دہ ہیں اور اگر جواب نہیں دے سکتے ہیں تو مستعفی ہوجائیں حکومت اس سے کم تنخواہ پر کسی اہل فرد کو بھرتی کر لے گی۔
Load/Hide Comments



