ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد(آن لائن) نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے، آئی ایم ایف کی شرائط، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ این پی ایم سی کا اجلاس وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کی زیر صدارت ہوا. اجلاس میں چیف اکانومسٹ، چیف ادارہ شماریات اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ عام آدمی پر بوجھ کم کرنیاور بڑھتی ہوئی مہنگائی کو روکنے کے لیے موجودہ حکومت موثر اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں قیمتوں کی نگرانی کے لیے (این پی ایم سی) کا اجلاس اب ہفتہ وار بنیادوں پر منعقد کیا جائے گا.اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ مہنگائی کے سب سے بڑے محرک عالمی قیمتوں میں اضافہ اور آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے پی او ایل اور یوٹیلیٹیز ٹیرف میں اضافہ ہیں, پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نے بھی مہنگائی میں اضافہ کیا۔ تاہم، ذخیرہ اندوزی بھی اپنا حصہ ڈالا ہے.وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے ہفتہ وار بنیادوں پر (این پی ایم سی) اجلاس بلانے کی ہدایت کرتے ہوئے ادارہ شماریات کو بھی ہدایت کی کہ وہ ہر اجلاس میں اپنی ڈیٹا تجزیہ رپورٹ شیئر کرے. وفاقی وزیر نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو قیمتوں کے اشاریہ کی قریب سے نگرانی کرنے اور پروجیکشن کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت جاری کیں. تاکہ مستقبل کے بحران پر قابو پانے کے لیے بہتر پالیسی بنائی جا سکتی ہے.وفاقی وزیر نے ادارہ شماریات کو ملک بھر کے مختلف اضلاع میں ضروری اشیائے خوردونوش کی تھوک اور خوردہ قیمتوں میں فرق کا باقاعدگی سے موازنہ کرنے کی بھی ہدایت جاری کیں اور اس سلسلے میں وزارت خوراک و صنعت کو بھی اجلاس میں شامل کرنے کی بھی ہدایت جاری کیں.