اسلام آباد(آن لائن) ڈاکٹر شہباز گل تشدد کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو انکوائری کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ انکوائری کر کے پیر کو رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے کی عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شہباز گل کی کوئی تازہ میڈیکل رپورٹ سامنے آئی کیا اْس رپورٹ میں کوئی تشدد کی علامات آئی ہیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ تشدد کی کوئی رپورٹ نہیں صرف سانس کے مسئلے کا زکر ہے عدالت نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب کیا شہباز گل پر تشدد کیا گیا ہے؟ جس پر آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ بالکل بھی کسی طرح کا کوئی تشدد نہیں کیا گیا اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل کو عدالت نے بولنے سے روک دیا عدالت نے کہا کہ آپ آئی جی نہیں ہیں آئی جی صاحب کو بولنے دیں تین چار دن سے ہر جگہ زکر ہے شہباز گل پر تشدد ہوامیں اور آپ ایکسپرٹ نہیں، بہتر ہو گا اس پر ایکسپرٹ رائے دیں اس وقت شہباز گل کہاں ہیں؟ جس پر فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل پمز میں بیہوشی کی حالت میں پڑے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ آپ تو کہہ رہے تھے آپ کو ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا جس پر ایڈووکیٹ نے کہا ملنے نہیں دیا گیاجب وارڈ میں لے جا رہے تھے اس وقت کی تصویر دیکھی میرے لئے شہباز گل کی پرائیویسی اہم ہے ورنہ کچھ اور تصویریں بھی دکھاؤں ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر گواہ ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ کیا ان کے سامنے شہباز گل کو مارا گیا ہے ان کے سامنے تشدد کے نشان شہباز گل نے عدالت میں دکھائے جس پر عدالت نے کہا کہ روز کسی نہ کسی اللہ دین کا ریمانڈ ہوتا ہے کوئی نہیں دیکھتایہ اہم کیس ہے اس لیے ساڑھے چار بجے کورٹ فْل ہییہ ہم سب کیلیے لمحہ فکریہ ہے اس موقع پر اڈیالہ جیل کے میڈیکل آفیسر ریکارڑ کے بغیر پیش ہوئے جس پر عدالت نے کہا کہ جس دن شہباز گل کو آپ نے ریسیو کیا تب کی میڈیکل رپورٹ دکھائیں جس پر میڈیکل افسر نے عدالت کو بتایا کہ وہ رپورٹ میرے پاس نہیں ہے جس پر عدالت نے کہا کہ تو پھر آپ کیوں آئے؟ آپ کو کیا میں نے اپنے علاج کیلئے بلایا؟سارے معاملے کی ایک ابتدائی رپورٹ بنا کر پیر کو پیش کریں اڈیالہ جیل حکام کو کنڈکٹ پر نوٹس جاری کر رہا ہوں آئی سی ٹی کو بھی نوٹس کروں گا کہ کیوں یہ سب ہو رہا ہے کل اگر جان بوجھ کر عدالتی احکامات میں رکاوٹ نکلی تو توہین عدالت کا نوٹس کریں گے عدالت نے استفسار کیا کہ شہباز گل نے کل کس وقت خرابی طبیعت کی شکایت کی؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ بدھ سوا چار بجے انہوں نے سانس میں تکلیف کی شکایت کی جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ جب ریمانڈ کا فیصلہ آگیا پھر تکلیف ہوئی پہلے ٹھیک تھا وہ؟ اس موقع پر پی ٹی آئی وکلا کی عدالت سے تشدد کی جوڈیشل انکوائری کی استدعا کی آئی جی پر ہمیں اعتبار نہیں ہے جس پر عدالت نے کہا کہ ایسا نہ کہیں ان سے ایک ابتدائی رپورٹ ہم مانگ رہے ہیں پی ٹی آئی وکلا کی اسپتال میں شہباز گل سے ملنے کی اجازت کی استدعا کی جس پر عدالت نے کہا کہ وکلاء ملیں مگر اتنا رش نہ ہو ہم اس معاملے پر تحریری حکمنامہ جاری کریں گے عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی
Load/Hide Comments



