کراچی (آن لائن)کراچی میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچانے کا سبب بننے لگیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں مسلسل بارشوں کے بعد ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سفر کرنے سے لوگوں کی ریڑھ کی ہڈی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے جس کے نتیجے میں کمر درد اور گردن کی تکالیف میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔معروف پاک امریکن آرتھرائیٹس سینٹر اور عہد میڈیکل سینٹر سے وابستہ سینئر رھیوماٹولوجسٹس نے ان خیالات کا اظہارکراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شہر کے اسپتالوں میں آنے والے کمر درد کے ستر فیصد مریض موٹر سائیکل سوار یا رکشہ میں سفر کرنے والے مرد و خواتین ہیں جبکہ کار سوار افراد بھی سڑکوں پر لگنے والے جھٹکوں کے نتیجے میں ہڈیوں اور مسلز کے مختلف عوارض کا شکار ہو رہے ہیں۔پریس کانفرنس سے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پٹھوں اور جوڑوں کے درد کے ماہر ڈاکٹر تابع رسول، معروف رھیوماٹولوجسٹ ڈاکٹر طاہرہ پروین اور عہد میڈیکل سینٹر کے ڈائریکٹر رومان خان نے خطاب کیا، اس موقع پر پاک امریکن آرتھرائٹس سینٹر کی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر صالحہ اسحاق نے امریکہ سے آن لائن خطاب کیا۔طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ کمر یا ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درد کو نظر انداز کرنے والے مریض یا بار بار ایک ہی درد کا شکار ہونے والے مریضوں کو مستقل معذوری کا خدشہ ہوتا ہے۔ٹوٹی سڑکوں کے نتیجے میں جہاں غریب مریضوں پر علاج اور دواؤں کی وجہ سے اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے وہیں یہ افراد طویل بیڈ ریسٹ کی وجہ سے نوکریوں اور دیہاڑی سے محروم ہو رہے ہیں۔ڈاکٹر تابع رسول کا کہنا تھا کہ بائیک اور رکشہ کے خراب شاک ایبزوربرز اور سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے ڈسک کھسکنے کے نتیجے میں ریڑھ کی ہڈی کے مہرے دب جاتے ہیں،کمر میں جہاں سے ہماری نسیں گزرتی ہیں، بعض دفعہ لوگوں کو انڈر جینیٹک کوئی پرابلم ہو رہی ہوگی جو ظاہر نہیں ہوئی اور جھٹکا لگنے یا کسی حادثے کی صورت میں انجری ہوگی اور وہ آٹو امیون ڈیزیز کا شکار ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی خستہ حالی، ٹوٹ پھوٹ اور گڑھوں کی وجہ سے بیک پین کے کیسز بڑھ گئے ہیں، سڑکوں کی وجہ سے میکینکل بیک پین تو بہت زیادہ ہے، بعض کیسز میں اتنی شدت آجاتی ہے کہ ان کی روز مرہ زندگی متاثر ہوجاتی ہے۔
Load/Hide Comments



