اسلام میں جبری شادی اور جبری مذہب کی تبدیلی کی کوئی اجازت نہیں،علامہ طاہر اشرفی

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم کے مشیر و چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ اسلام میں جبری شادی اور جبری مذہب کی تبدیلی کی کوئی اجازت نہیں اور جبر کے ساتھ نکاح واقعہ ہی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں کی ساتھ غیر انسانی اور ناروا سلوک کی وجہ سے بھارت اقلیتوں کے لیے کا جہنم بن چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں سینٹر فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے زیر اہتمام 11 اگست یوم اقلیت پر خصوصی قومی مذاکرے سے خطاب میں کیا۔ تقریب سے شیعہ علما کونسل پاکستان کے نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی سیرت چیئر کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد رحمان، ڈائریکٹر پیس اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن رومانہ بشیر، ہندو کیمونٹی کے رہنما روہیت کمار ایڈووکیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا الائینس فار پاکستان کے صدر سبوخ سید نے بھی خطاب کیا۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اسلام اور پاکستان کا ا?ئین تمام شہریوں کو یکساں حقوق دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو مذہبی منافرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتہاپسندانہ رحجانات میں بڑی حد تک تبدیلی آ چکی ہے تاہم مکمل خاتمے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا پڑوسی بھارت کی جانب سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر فیک اکاؤنٹس کی مدد سے ہر سال فرقہ وارانہ مواد ڈال کر آگ لگائی جاتی تھی لیکن اس بار حکومت اور فوج نے ان اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا۔ حافظ طاہر محمود اشرقی نے کہا کہ دشمن جب محرم میں فرقہ واریت پھیلانے میں ناکام رہا تو اس نے پاک فوج اور شہریوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ توڑنے کی سازشیں شروع کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین، قانون اقلیتی برادری کومکمل حق دیتا ہے، تمام مکاتب فکر اور مذاہب نے ہمیشہ اقلیتی برادری کے حقوق کی مسلمہ حقیقت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ انکے ساتھ کھڑے رہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں کا کوئی پرسان حال نہیں،مسلمانوں کو جمعہ سے، مسیحی برادری کو ان کی تقاریب سے روکا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں امام حسین علیہ السّلام کی یاد میں محرم الحرام میں کسی تقریب کی اجازت نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ محرم میں ایک طرف بھارتی قابض فوج کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہی تھی دوسری طرف اسرائیل فلسطین پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جبری تبدیلی مذہب کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اپنی ہوس کی آگ بجھانے کے لئے کوئی ایسا کرے تو ہمیں اسکے سامنے کھڑا ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگ اپنے مفادات کی خاطر مذہب کا استعمال کرتے ہیں جسے روکنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ سال مجھے چھ مسیحیوں پر توہین رسالت کا مقدمہ بارے علم ہوا تو ہم نے اس جھوٹے مقدمہ کو ختم کرایا۔