اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیر قانون کی خواہش پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ تبدیل کیا اور ڈیڑھ لائن شامل کی، چیف الیکشن کمشنر اور سندھ کے ممبر کے خلاف ریفرنس فائل ہوچکا ہے،عمران خان اور تحریک انصاف پر پابندی لگانا آپ کے بس میں نہیں،وہ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کے باہر بڑے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 84 سیٹیں لینے والے کہہ رہے ہیں کہ 155سیٹیں لینے والی پارٹی پر پابندی لگادیں گے، اپنے قد اور حیثیت کے مطابق بات کریں، عمران خان اور تحریک انصاف پر پابندی لگانا آپ کے بس میں نہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ابھی الیکشن کرائے تو عمران خان جیت جائے گا، تو پھر مارشل لاء لگا دیں، یہ تو کوئی جواز نہیں کہ عمران خان جیت جائے گا جس پر یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ پارٹی کو تحلیل کر سکے، الیکشن کمیشن نے پی ڈی ایم کے ٹول کے طور پر ایکٹ کیا ہے، وزیر قانون کی خواہش پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ تبدیل کیا اور ڈیڑھ لائن شامل کی۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی لیڈر شپ کی زیرالتواء کیس سے متعلق الیکشن کمیشن سے ملاقات ہوئی، ملاقات کے فوری بعد یہ فیصلہ سنایا گیا، زیرالتواء کیسز پر کبھی ایک فریق سے چیمبر میں ملاقات نہیں ہوتی، ملاقات کی تفصیل سے ڈسکشن ہوئی پھر سلطان سکندر راجہ اور ٹیم نے یہ فیصلہ سنایا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عجلت میں دو فیصلے سنائے، ایک فیصلہ میڈیا اور دیگر لوگوں کو جاری کیا گیا جس میں آخری لائن نہیں تھی، دوسرے فیصلے میں ڈیڑھ لائن شامل کرکے ویب سائٹ پر جاری کیا گیا، سلطان سکندر راجہ اور سندھ کے ممبر پر پی ٹی آئی کا ریفرنس فائل ہوچکا ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین اور قانون سے ماورا ہے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل میں جائیں گے، یہ اعتماد ہے پی ٹی آئی اور عمران خان پر، عدالت سے فیصلہ واپس ہوجائے گا۔فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کل الیکشن کمیشن کے سامنے بڑا احتجاج ہونے جا رہا تھا اس لیے ان کو پریشانی لاحق ہوئی ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں فیصلے سے قبل پی ڈی ایم قیادت نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات اور خود توہین عدالت کی۔
Load/Hide Comments



