ممنوعہ فنڈنگ فیصلے کے بعد عمران نیازی کو پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے، عطااللہ تارڑ

اسلام آباد (آن لائن) وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور رہنما مسلم لیگ ن عطاء اللہ تارڑ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف
عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چوری کے مرتکب ہو نے والے خان کو تو پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے، جب عمران خان کیخلاف فیصلہ آتا ہے اسٹاک ایکسچینج اوپر چلی جاتی ہے، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء تارڑ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ظرف سے فارن فنڈنگ کیس کا تاریخ ساز فیصلہ سنایا گیاجس شخص کے بارے میں فیصلہ آیا وہ تضادات کا مجموعہ ہے عمران خان منافقت کی سیاست کے چیمپئن ہیں 8 سال بعد بھی فواد چوہدری کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ اعجلت میں سنایا گیاعجلت وہ ہوتی ہے جب ایک وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا جائے کوئی کیس ایسا نہیں ملتا جو روزانہ کی بنیاد پر سنا گیافواد چوہدری کا چہرہ اترا ہوا تھا،8سال اس لیے لگے کیونکہ چوری اور اوپر سے سینہ زوری تھی ان کو پتہ تھا ممنوعہ فارن فنڈنگ لی گئی ہے۔ فواد چوہدری جس کشتی میں بیٹھتے ہیں اسے ڈبو دیتے ہیں۔غیر ملکی شہریوں کا پی ٹی آئی کو فنڈنگ کا مقصد کیا تھا اوورسیز نے پیسے اسلیے بھیجے کے فتنہ خان گھر چلائے؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان چوری کے مرتکب ہوئے ہیں تو پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن کا اس پر دائرہ اختیار نہیں،پھرا سکروٹنی کمیٹی کو چیلنج کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی شہریوں کا تحریک انصاف کو فنڈز بھیجنے کا کیا مقصد تھا؟ کیا فنڈز بنی گالا محل کیلئے بھیجے گئے۔ پتہ تھا کہ چوری ہے،اسٹے آرڈ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کئی بار کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی بوکھلاہٹ کا شکارہے۔عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان ہر معاملے میں یوٹرن لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان کیخلاف فیصلہ آتا ہے اسٹاک ایکسچینج اوپر چلی جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مثبت اثرات مرتب ہوئے،ڈالر نیچے آگیا ہے۔ فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف نے تاخیری حربے استعمال کئے۔