اسرائیل کی عرب اکثریتی جماعت جوائنٹ لسٹ نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر انتخابی دھاندلی اور غیر ملکی مداخلت کے بے بنیاد الزامات کے ذریعے انتخابی نتائج کو متنازع بنانے کی کوشش کا الزام عائد کردیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق جوائنٹ لسٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ دائیں بازو کے سیاست دان انتخابی نتائج تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور عرب ووٹرز کے خلاف جھوٹے الزامات اور اشتعال انگیز مہم چلا رہے ہیں۔
جماعت نے الزام لگایا کہ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے رہنماؤں نے انتخابات سے کئی ماہ قبل عرب جماعتوں کی سیاسی حیثیت کو نقصان پہنچانے کی منظم مہم شروع کی، جس میں عرب جماعتوں کو نااہل قرار دلوانے کی کوششیں اور پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کو مبینہ طور پر ہراساں کرنا شامل تھا۔
اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام
جوائنٹ لسٹ کے مطابق عرب شہریوں نے غیرمعمولی تعداد میں ووٹ ڈال کر تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، جسے کوئی منفی مہم ختم نہیں کرسکتی۔
انتخابات کے جزوی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ گادی آئزنکوٹ کے زیر قیادت اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں حاصل ہوسکتی ہیں۔
دوسری جانب جوائنٹ لسٹ اور عرب جماعت رعام کی مجموعی 19 نشستیں اپوزیشن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہیں۔ اگر دونوں عرب جماعتیں آئزنکوٹ کے اتحاد سے تعاون کریں تو انہیں مجموعی طور پر 67 ارکان کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے، جو حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں سے زیادہ ہے۔
جوائنٹ لسٹ نے اپوزیشن رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ نیتن یاہو کے الزامات کو مسترد کرکے عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
اسرائیلی انتخابات: ڈبل لفافوں میں ڈالے گئے ووٹ نتائج کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں، یہ نظام کیا ہے؟
جماعت نے کہا کہ ہمارے بغیر آپ کامیاب نہیں ہوسکتے، لیکن ہمارے ساتھ مل کر ایک مختلف مستقبل تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیٹی کے سربراہ جسٹس نوعام سولبرگ نے انتخابی عمل میں مبینہ غیرملکی فنڈنگ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، تاہم اب تک عرب جماعتوں کے خلاف الزامات کی تصدیق کرنے والا کوئی ثبوت عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
مرکزی الیکشن کمیٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیونے نے بھی بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات قانون کے مطابق ہوئے اور ان کے علم میں منظم بے ضابطگیوں کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔



