رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ میں مقتولہ حنا جاوید کے اہلخانہ سے ملاقات اور کیس کی جامع تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن کے قیام کی حمایت کی ہے۔
آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ حنا جاوید کے اہلخانہ کا مطالبہ ہے کہ جامع تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے، امید ہے اہلخانہ کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور ہوگا اور مقدمے کے تمام پہلوؤں کی منصفانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔
کیس کا پس منظر:۔
خیال رہے کہ حنا جاوید کو 22 اگست 2026 کو تشدد کرکے قتل کیا گیا تھا، اس کی شادی 9 ماہ قبل فیصل اصغر سے ہوئی تھی، شوہر نے کئی بار مارا پیٹا مگر حنا اس ڈر سے خاموش رہی کہ بستر مرگ پر پڑے اس کے والدین کو دکھ نہ پہنچے۔ یہی خاموشی شاید اس کے شوہر کو مزید سفاک بناتی چلی گئی اور پھر اس نے حنا کا بہیمانہ قتل کر دیا۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق شوہر فیصل اصغر نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر حنا کو قتل کیا، حنا جاوید کی لاش گھر کے واش روم میں شاور سے پھندے کے ساتھ لٹکی ملی، مقتولہ کے ہاتھ بندھے ہوئے اور منہ سے خون اور جھاگ نکل رہا تھا۔
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ نے حنا جاوید قتل کی دوبارہ تفتیش کی ہدایت کردی
قتل کے الزام میں شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم گرفتار ہیں، سسر بھی نامزد ہے، ملزم فیصل اصغر کو جنسی ہراسانی کے الزام میں اسلام آباد کی 2 یونیورسٹیز سے برطرف کیا جا چکا ہے، مقتولہ کے شوہر کی یہ دوسری شادی تھی، پہلی بیوی نے مبینہ گھریلو تشدد اور اذیتوں کے باعث طلاق لے لی تھی۔
28 اگست کو حنا جاوید قتل کیس کو ہائی پروفائل قرار دیا گیا تھا، پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ پنجاب نے سینئر پراسیکیوٹرز پر مشتمل خصوصی کمیٹی بنائی تھی، کمیٹی کو کیس کی تفتیش سائنسی اور جامع بنیادوں پر آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی تھی۔



