مالی سال 2022-23 ء کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کا 32 ارب 19 کروڑ 59 لاکھ روپے سے زائد کا بجٹ پیش

کراچی (آن لائن)ایڈمنسٹریٹر کراچی، مشیر قانون اور ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بدھ کے روز خالق دینا ہال میں پریس بریفنگ میں مالی سال 2022-23 ء کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کا 32 ارب 19 کروڑ 59 لاکھ روپے سے زائد کا بجٹ پیش کردیا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے بجٹ میں کل آمدن 32 ارب 21 کروڑ20 لاکھ 87 ہزار روپے جبکہ مجموعی اخراجات 32 ارب 19 کروڑ 59 لاکھ 60 ہزار روپے 16.127 ملین بچت کے ساتھ شامل ہیں، اس موقع پر میونسپل کمشنر افضل زیدی، مشیر مالیات غلام مرتضی بھٹو، ڈائریکٹر بجٹ ناصر محمود اسحاقی، سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم امتیاز ابڑو، سینئر ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ علی حسن ساجد اور دیگر افسران بھی موجود تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے کڈنی ہل میں سولر انرجی پارک جولائی کے آخر تک کام شروع کردے گا جس سے پیدا ہونے والی تین لا کھ 65 ہزار یونٹ بجلی شہر میں اسٹریٹ لائٹس کو روشن کرنے کے لئے استعمال ہوگی، کے ایم سی کے ریونیو نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ آئندہ آنے والے میئر کو فنڈز کی عدم دستیابی کا سامنا نہ کرنا پڑے، صرف زبانی دعوے نہیں کئے بلکہ حقیقت پسندی کے ساتھ بجٹ میں آمدنی کے اہداف متعین کئے ہیں، اے ڈی پی فنڈ کو شہر کی بہتری کے لئے استعمال کررہے ہیں، کے ایم سی لینڈ ریکارڈ کو پہلی بار کمپیوٹرائزڈ کیا جس سے مستقبل میں شہر کی منصوبہ بندی اور ریونیو اکھٹا کرنے میں آسانی ہوگی، پہلے جب کے ایم سی سے سوال پوچھا جاتا تو کہا جاتا تھا کہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے ہم نے اس بیانیے کو ختم کیا ہے کیونکہ یہ ہمارا شہر ہے، میرا ہدف یہ ہے کہ میئر یا ایڈمنسٹریٹر کوئی بھی ہو بہتر کام ہونا چاہئے، یہ ہمارا شہر ہے اور ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،باہمی تعاون اور رابطے ہونگے تو مسائل حل ہوتے جائیں گے، میونسپل یوٹیلیٹی سروسز چارجز بلزکی وصولی کے نظام میں تبدیلی سے آئندہ سال پونے چار ارب روپے حاصل ہونگے، شہری اس بل کی ادائیگی میں سخاوت دکھائیں، کڈنی ہل کے بعد کے ایم سی بلڈنگ اور دیگر مقامات پر بھی سولر بجلی کے منصوبے بنائیں گے تاکہ سستی بجلی حاصل ہوسکے، شہر میں تباہ حال سڑکوں کو ٹھیک کرنے کے لئے سندھ حکومت کی کوآرڈینیشن سے کام کیا جس سے شہریوں کو آمدو رفت میں سہولت ملی ہے، اگلے تین ماہ میں مختلف علاقوں میں مزید 20 پارکس کی تزئین و بحالی کاکام مکمل ہوجائے گا، ہم نے کلفٹن کنٹونمنٹ میں پارک بنا کر دیا جس کی فیس کنٹونمنٹ خود وصول کررہی ہے، ان مسائل کے حل کے لئے شہر میں سینٹرلائز ریونیو اتھارٹی ہونا چاہیئے، کراچی چڑیا گھر کو بہتر بنایا جس سے چڑیا گھر اور سفاری پارک کے ریونیو میں تین گنا اضافہ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ آج سے فائر بریگیڈ کو 1122 ایمرجنسی سسٹم سے منسلک کردیا ہے، تیسرے مرحلے میں 15 مددگار کو بھی چند روز میں اس سے منسلک کردیں گے جس سے ایمرجنسی سسٹم کو ماڈرن بنایا جاسکے گا، اچھی بات یہ ہے کہ تمام شہری ادارے اب باہم مل کر بہتری کے لئے کام کررہے ہیں، حالیہ بارش کے بعد نکاسی آب کے کاموں میں بہتری اس کی زندہ مثال ہے، پلاسٹک بیگ شہر کے انفراسٹرکچر کو تباہ کررہے ہیں ان پر پابندی کا فیصلہ اٹل ہے، ریٹائرڈ پنشنرز کے واجبات کی ادائیگی کیلئے سندھ حکومت سے جلد ہی گرانٹ مل جائے گی، یہ معاملہ اب آخری مراحل میں ہے، لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے جو بھی ہوسکا ضرور کریں گے، اسپتال چلانا کے ایم سی کا کام نہیں، بلدیاتی عملے کی تربیت ایسی نہیں ہوتی کہ وہ طبی معاملات کو سمجھ سکیں، بہتر ہوگا کہ ان اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے چلایا جائے یا صوبائی ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے حوالے کردیا جائے، قبل ازیں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہو ں نے کہاکہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا اور موجودہ ریونیو ریکوری کو ہی مزید بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے-