کراچی (آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بڑی صنعتوں پر سپر ٹیکس کے نفاذ کے اعلان کے فوری بعد جمعہ کوپاکستان اسٹاک مارکیٹ بدترین مندی کا شکار ہونے کے بعد کریش ہو گئی،کے ایس ای100انڈیکس 1600پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ سے مارکیٹ42ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے گر گئی اورانڈیکس 41ہزار پوائنٹس کی پست سطح پر آگیا۔کاروباری مندی کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے230ارب روپے ڈوب گئے جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 70کھرب روپے سے گھٹ کر68کھرب روپے رہ گیا۔مندی کی لہر سے 78.84فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں۔ اسٹاک ماہرین کے مطابق حکومت تمام بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگارہی ہے جس پر مارکیٹ نے بہت منفی طریقے سے ردِ عمل دیا کیوں کہ یہ اقدام کارپوریٹ سیکٹر کے منافع کو بری طرح متاثر کرے گااور 10 فیصد سپر ٹیکس کے ساتھ پاکستان کا کارپوریٹ انکم ٹیکس اور دیگر تمام ٹیکس ملا کر 50 فیصد سے زائد ہوجائے گا۔ماہرین نے نئے کاروباری ہفتے کے دوران بھی مارکیٹ مندی کی لپیٹ میں رہنے کی پیش گوئی کر دی ہے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ جمعہ کو کاروبار کے آغاز سے ہی دباؤ کا شکار رہی،منافع کی خاطر فروخت کے دباؤ اور سرمائے کے انخلاء سے مارکیٹ تنزلی کا شکار ہوئی اور مندی کا یہ رجحان کاروبار کے اختتام تک غالب رہا جس کی وجہ سے مارکیٹ جمعہ کو قبل ذکر کارکردگی کا مظاہر نہ کر سکی۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جمعہ کو کے ایس ای100انڈیکس میں 1665.18پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی جس سے انڈیکس 42716.97پوائنٹس سے گھٹ کر41051.79پوائنٹس ہو گیا اسی طرح 690.77پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای 30انڈیکس 16353.22پوائنٹس سے کم ہو کر 15662.45پوائنٹس پر آگیا جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 29145.21پوائنٹس سے گھٹ کر28196.03پوائنٹس پر بند ہوا۔کاروباری مندی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں 2کھرب30ارب99کروڑ51لاکھ4ہزار548روپے کی کمی واقع ہو گئی جس سے مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 70کھرب93ارب57کروڑ21لاکھ24ہزار 44روپے سے گھٹ کر68کھرب62ارب57کروڑ70لاکھ 19ہزار496روپے رہ گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جمعہ کو12ارب روپے مالیت کے 42کروڑ42لاکھ29ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ جمعرات کو10ارب روپے مالیت کے34کروڑ94لاکھ88ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔مارکیٹ میں گذشتہ روز مجموعی طور پر 364کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے61کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،287میں کمی اور16کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کاروبار کے لحاظ سے کے الیکٹرک لمیٹڈ3کروڑ 66لاکھ،سینر جیکو پاک م2کروڑ58لاکھ،پاک ریفائنری2کروڑ53لاکھ،ٹیلی کارڈ لمیٹڈ 1کروڑ69لاکھ اور یونٹی فوڈز لمیٹڈ 1کروڑ57لاکھ حصص کے سودوں سے سرفہرست رہے۔قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اعتبار سے محمود ٹیکسٹائل کے بھاؤ میں 60.48روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے اسکے حصص کی قیمت بڑھ کر 866.96روپے ہو گئی اسی طرح 23.00روپے کے اضافے سے فلپ مورس پاک کے حصص کی قیمت بڑھ کر563.00روپے پر جا پہنچی جبکہ باٹا پاک کے بھاؤ میں 162.17روپے کی کمی واقع ہوئی جس سے اسکے حصص کی قیمت کم ہوکر2004.66روپے ہو گئی اسی طرح200.08روپے کی کمی سے نیسلے پاکستان کے حصص کی قیمت کم ہو کر 5700.00روپے پر آ گئی۔
Load/Hide Comments



