ہمیں بڑھتی ہوئی زمینوں کے بنجر ہونے اور قحط سالی کا مقابلا کرنا ہوگا، شیری رحمن

اسلام آباد (آن لائن)وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ہمیں بڑھتی ہوئی زمینوں کے بنجر ہونے اور قحط سالی کا مقابلا کرنا ہوگا، ہم نے پانی کی قلت کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ قحط سالی ہمارے ملک اور آنے والی نسلوں کے لئے بہت بڑا خطرہ بن جائے گا۔ زمینوں کے بنجر ہونے اور قحط سالی سے نمٹنے کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج دنیا بھر کے ممالک ڈزرٹیفکیشن اور قحط سالی سے نمٹنے کا عالمی دن منا رہے ہیں،زمین کا صحرا میں تبدیل ہونے کا عمل اور قحط سالی نے دنیا کے 100 سے زائد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،یہ بحران ماحول میں بڑھتی ہوئی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے،پاکستان کے بہت سے علاقے تیزی سے صحرا کی شکل اختیار کر رہے ہیں، شیری رحمان نے کہا کہ پانی کی قلت ناصرف زمینوں کے بنجر ہونے اور قحط سالی بلکہ ہمارے کسانوں کی غربت اور بیروزگاری کی وجہ بھی بنتی ہے،پاکستان کا شمار دنیا کے ان 23 ممالک میں ہوتا ہے جن کو شدید قحط سالی کا سامنا ہے،پانی کی قلت وجہ سے ہم اس سال آم، گندم، گنا اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں خاطرخواہ کمی ہوئی،پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے یہ کمی شدید خوراک کے بحران کا باعث بن سکتی ہے سندھ اور جنوبی پنجاب میں خشک سالی سے مقامی آبادی، مویشی اور ہر جاندار شدید متاثر ہوا ہیہمیں اپنی زمین کو ان سب اثرات سے محفوظ رکھنا ہے ہمیں بڑھتی ہوئی زمینوں کے بنجر ہونے اور قحط سالی کا مقابلا کرنا ہوگا،ضروی ہے کہ ہم ماحولیات کا تحفظ کریں، پانی احتیاط سے استعمال کریں –