لاہور (آن لائن) سابق وفاقی وزیر فرخ حبیب نے پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر د یا اور کہا ہے کہ ہم حقیقی معنوں میں پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کے لیے جدوجہد میں تھے،حالات کے تسلسل اور جذبات کی وجہ سے میں بہت آگے نکل گیا تھا، 9 مئی کے واقعات انتہائی افسوسناک، قابلِ مذمت اور سیاہ دن تھا،تحریک عدم اعتماد آئینی عمل تھا اس کے بعد جدوجہد کو پارٹی رہنماوں اور ورکرز کو پرتشدد مزاحمت میں دھکیل دیا گیاہم نے اس کے لیے جدوجہد نہیں کی تھی, پرامن سیاست کی بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی پی پی رہنماء عون چوہدری ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر فرخ حبیب نے پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا ۔انکا کہناتھا کہا کہ پچھلے 20 روز سے میں نے اپنا رابطہ اپنی فیملی کے ساتھ منقطع کیا ہوا تھا،پچھلے پانچ ماہ سے ہم اپنے گھروں میں موجود نہیں تھے۔حالات کے تسلسل اور جذبات کی وجہ سے میں بہت آگے نکل گیا تھا۔ 9 مئی کے واقعات انتہائی افسوسناک، قابلِ مذمت اور سیاہ دن تھا۔معصوم لوگوں کے ذہنوں کو ہائی جیک کیا تھا۔عمران خان نے مزاحمت اور تشدد کا راستہ اختیار کیا، عدم اعتماد کے بعد ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دیا گیا،عمران خان کو الیکشن کا انتظار کرنا چاہیے تھا، عوام کے ذہنوں میں نفرت کا بیج بْویا، جذبات کی وجہ سے میں بہت آگے نکل گیا، ہم ملک کو تشدد کی سطح پر لے آئے، آئینی طریقے سے عدم اعتماد ہوا۔عدم اعتماد کے بعد ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دیا گیا، نہ ہی عوام کو۔تحریک عدم اعتماد کے بعد جمہوری طریقے سے جدوجہد کرنی چاہئیے۔ ہم 9 مئی کے واقعات پر قانون کا سامنا نہیں کر رہے تھے۔ ہم جمہوری جدوجہد سے ہٹ کر ملک کو تشدد کی طرف لے آئے۔ خود احتسابی کا عمل بہت ضروری ہوتا ہے ہم تو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کے لیے شامل ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم حقیقی معنوں میں پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کے لیے جدوجہد میں تھے۔فرخ حبیب نے کہا کہ حالات کے تسلسل اور جذبات میں انسان اتنا آگے چلا جاتا ہے کہ کچھ پتا نہیں چلتا، میں نے وقت لیا تاکہ اپنا کوئی فیصلہ کروں، میرے دوستوں نے اس متعلق میری مدد کی۔انہوں نے کہا کہ ہم سیاست کو جمہوری جدوجہد سے ہٹ کر پرتشدد ماحول میں لائے۔فرخ حبیب نے کہا کہ اپریل میں عدم اعتماد تحریک کا عمل ہوا جو کہ آئینی طریقے سے ہوا لیکن اس کے بعد جمہوری جدوجہد ہونی چاہیے تھی، انتخابات کا انتظار کرنا چاہیے تھا لیکن پرتشدد مزاحمت کا راستہ اختیار کرلیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم خود مار کھا لیتے تھے لیکن پرتشدد سیاست نہیں کرتے تھے، ہم رات دن سیاسی کام کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس دور سے کام کر رہے تھے جب لوگ پوچھتے تھے تحریک انصاف کیا ہے، اس وقت ہمارا پیغام قائد اعظم کا پاکستان اور پرامن سیاسی جدوجہد تھی۔فرخ حبیب نے کہا کہ 9 اپریل کے بعد لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے اور مزاحمت کرنے کا پیغام دیا گیا، معصوم لوگوں کو اکسایا گیا اور ان کے دماغ میں مسلسل جذبات بھڑکائے گئے کہ پاکستان کے ادارے آپ کے خلاف کام کر رہے ہیں۔عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ سے لوگ پرامن جدوجہد کی توقع کرتے تھے آپ نے بیلٹ کے بجائے بلٹ کا راستہ دیا اور پھر 24 گھنٹے مزاحمت ہوتی رہی، رات دن ٹی وی پر بیٹھ کر نیلسن منڈیلا کا سبق دیا جاتا تھا لیکن منڈیلا نے نوجوانوں کو پیٹرول بم بنانے کی ترغیب نہیں دی تھی۔انہوں نے کہا کہ مزاحمت کے نتیجے میں کئی لوگ زخمی ہوئے، املاک کو نقصان پہنچا، عمران خان کی ذمہ داری تھی کہ وہ تدبر دکھاتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، ان کا خیال تھا کہ لوگ ان کے لیے لڑیں۔فرخ حبیب نے مزید کہا کہ ہمارے دور حکومت میں بھی اس وقت کی اپوزیشن نے برداشت کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی کے واقعہ کے لیے مسلسل لوگوں کی ذہن سازی کی گئی، اکسایا گیا کہ گرفتاری کے وقت لوگ جمع ہوجائیں۔فرخ حبیب نے کہا کہ آپ کی گرفتاری کے وقت چند لوگوں کو پتا نہیں کیا احکامات تھے، جب میں نے حالات دیکھے تو کشیدہ تھے، میں کہیں بھی نہیں گیا، جو کچھ اس دن ہوا یہ انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت تھا جس کو سیاہ واقعے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں۔
Load/Hide Comments



