کراچی (آن لائن)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سندھ کے نگراں وزیر اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر پر زور دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آئین کے آرٹیکل 140 (A)کے مطابق بلدیاتی اداروں کو ٹاؤن اور یوسیز کی سطح تک مالی و انتظامی اختیارات اور منتخب نمائندوں کو چارج کی منتقلی یقینی بنائیں،نئے وزراء شہریوں کے مسائل کے حل اور امن و امان کی بہتری کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ قبضہ میئر کو سوشل میڈیا اور تقریبات سے فرصت ملے تو عوام کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دے سکیں گے، مرتضیٰ وہاب عبوری مدت کے حوالے سے عوام کو دھوکا نہ دیں، وہ سندھ حکومت کے صوبائی ترجمان اور پیپلزپارٹی کے عہدیداران رہے ہیں،ان کی پارٹی نے بلدیاتی قانون میں تبدیل کر کے 6ماہ کی عبوری مدت مقر ر کی تھی جس کے خلاف ہم نے عدالت سے رجوع کیا ہوا ہے، منتخب بلدیاتی نمائندوں کو چارج کی منتقلی کے لیے ہم عدالتی جنگ بھی لڑیں گے اور احتجاج بھی کریں گے۔ مرتضیٰ وہاب بتائیں کہ شہر میں 25ہزار مین ہولز ڈھکن کے بغیر ہیں، ان کی پارٹی اور حکومت نے یہ مسئلہ حل کیوں نہیں کیا، پیپلزپارٹی 15سال سے حکومت کررہی ہے اس نے کراچی کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا شہر کو تباہ وبرباد کردیا،جماعت اسلامی پیپلزپارٹی کی نااہلی اور ناقص کارکردگی کے حوالے سے وائٹ پیپر شائع کرے گی، کراچی میں امن و امان کی صورتحال اور بڑھتی ہوئی مسلح ڈکیتیاں و لوٹ مار کی وارداتیں بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، پولیس کا محکمہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوا ہے۔
Load/Hide Comments



