قومی ترقی کیلئے اتحاد و یگانگت کی ضرورت ہے، صدر مملکت

اسلام آباد(آن لائن) صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ اخلاقی اقدار کی پستی کی وجہ سے دنیا میں انتشار ہے، حضور نے عفودر گزر کی تلقین کی، قومی ترقی کیلئے اتحاد و یگانگت کی ضرورت ہے سیاستدان اور اسٹیک ہولڈرز درگزر کا رویہ اپنائیں، پاکستان اپنے لیڈروں سے تقاضہ کرتا ہے کہ اکٹھے ہوجائیں۔جشن آزادی پر اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں پرچم کشائی کی تقریب ہوئی، صدر مملکت عارف علوی نے پرچم فضا میں بلند کیا۔ جشن آزادی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پوری قوم کو یوم آزادی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان کیلئے کوششیں اور قربانیاں 1857 کی جنگ آزادی سے شروع ہوئیں، آج بھی میرے فوجی، سویلین اور میری قوم مسلسل شہادتیں دے رہے ہیں۔ صدرمملکت کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ایک لاکھ جانیں قربان کی گئیں، آزادی اور جمہوریت کیلئے یہ قربانیاں دی گئیں، قانون و آئین کی بالادستی کے لئے قربانیاں دی گئیں۔ صدرعارف علوی کا کہنا تھا کہ ہمارے بزرگوں نے مساوات، مذہبی آزادی، بنیادی حقوق کیلئے جانیں قربان کیں، قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر اتحاد و یگانگت کی فضا قائم کی جاسکتی ہے، تعلیمات دین سیکھ کر دنیا اور آخرت کی کامیابی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کریں، اللہ کی راہ میں خرچ کریں، سیاستدان اور اسٹیک ہولڈرز درگزر کا رویہ اپنائیں، انصاف کیلئے ضروری ہے کہ فریقین کو سنا جائے، انصاف نہ ہونے سے معاشرہ انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام پرامن مذہب ہے، ہم اپنے نبیؐاور قرآن سے محبت کرتے ہیں، اسلام کی بتائی ہوئی اقدار پر عمل کرنے میں ہی کامیابی ہے، تعلیم کو عام کر کے ملک سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ 2 کروذ 70 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، ٹیکس دینے والے ٹیکس نہ دینے والوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، ہماری ترجیح بہترین صحت کی سہولتوں کی فراہمی ہونی چاہیے، قومی ترقی میں خواندگی اور صحت کے مسائل اہمیت کے حامل ہیں۔ صدرعارف علوی نے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے، انصاف سے ہی معاشرے ترقی کرتے ہیں، اخلاقی اقدار کی پستی کی وجہ سے دنیا میں انتشار ہے، حضور نے عفودر گزر کی تلقین کی، قومی ترقی کیلئے اتحاد و یگانگت کی ضرورت ہے۔ سیاستدان اور اسٹیک ہولڈرز درگزر کا رویہ اپنائیں، انصاف کیلئے ضروری ہے کہ فریقین کوسناجائے۔