اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے پاس کوئی جادو منتر نہیں تھا، تیل کی قیمتیں گرتی تھیں تو ہم قیمتیں کم کرتے تھے، ہمارے 16 ماہ میں کئی مرتبہ قیمتیں بڑھیں اورکم ہوئیں، قائد مسلم لیگ (ن) نوازشریف اگلے ماہ وطن واپس آئیں گے، قوم ان کا بھرپور استقبال کرے گی، وہ وطن واپس آ کر قانون کا سامنا کریں گے، وہ اپنی نااہلی کی 5 سال کی مدت پوری کر چکے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے ملک میں تباہی کی، 9 مئی ریاست، فوج اور سپہ سالار کے خلاف بغاوت تھی، بغاوت ہوجائے اور معیشت اچھی چلے یہ کیسے ممکن ہے، 9 مئی ملکی تاریخ کا تاریک ترین دن تھا۔ مقننہ کے ساتھ سپریم کورٹ کے سارے ججزنہیں، وہ ججز قابل احترام ہیں جو آئین کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں نہ سنتے ہیں، چند ججز نے جان بوجھ کرپارلیمنٹ کیساآرائی کی۔نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں کہ ہمارے 16 ماہ کے اقتدار میں مہنگائی بڑھی، چیئرمین پی ٹی آئی کے دورمیں مہنگائی ساڑھے 3 فیصد سے 12 فیصد تک گئی، ہمارے پاس کوئی جادو منتر نہیں تھا، تیل کی قیمتیں گرتی تھیں تو ہم قیمتیں کم کرتے تھے، ہمارے 16 ماہ میں کئی مرتبہ قیمتیں بڑھیں اورکم ہوئیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے دور میں گندم کی پیداوار کم ہوئی تھی، اس کے بعد ہمیں مجبوراً گندم درآمد کرنا پڑی۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں، آئی ایم ایف کے ساتھ بڑے چیلنج کو ہینڈل کیا، ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا اگر ڈیفالٹ ہوتا تو تباہی ہو جاتی، رمضان میں 40 یا 50 ارب روپے کا پنجاب میں مفت آٹافراہم کیا گیا، بجلی کی قیمتوں کی ری بیسنگ آئی ایم ایف کی وجہ سے کرنا پڑیں، اضافے کے باجود 63 فیصد بجلی صارفین پر کوئی بوجھ نہیں پڑا۔انہوں نے کہاکہان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوا، تعیناتی کی سمری آئی تو اس میں 6 نام موجود تھے جن میں سے جنرل عاصم منیرکا نام پہلے نمبر پر تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اچھے وقت اورچیلنجز دیکھے، ہم نے سیاست کو قربان کر کے ریاست کو بچانیکا فیصلہ کیا تھا، ریاست بچی ہے تو سیاست بھی بچ جائے گی، اچھا وقت آئے گا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قانون بنانا مقننہ کا کام ہے، سپریم کورٹ قانون نہیں بناسکتی، سپریم کورٹ صرف قانون کی تشریح کرسکتی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اس وقت آیا جب پارلیمنٹ مدت پوری کرچکی، سمجھ آتا ہے فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ اس پر نئی قانون سازی نہ ہو، مقننہ کو قانون سازی کا پورا اختیار ہے، کبھی نہیں ہوا ایک بینچ مقننہ کا قانون سازی پر عملدرآمد کا حق روک دے، قانون بننے کے بعد چیلنج کرنا الگ بات ہے، قانون پر عملدرآمد روکنے کا واقعہ کبھی نہیں دیکھا، نہ ہوگا، قانون پرعملدر آمد روکنا ناپسندیدہ عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری نتائج مکمل ہونے کے بعد ہم نے سی سی آئی کی میٹنگ بلائی، سی سی آئی فیصلیمیں لکھا ہے آئندہ الیکشن نئی مردم شماری پرہوں گے، چاہتاہوں کہ الیکشن جلد از جلد ہوں، میں نے اور نگراں حکومت نے الیکشن نہیں کرانے، انتخابات الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں، آئین کے مطابق حکومت چھوڑ رہا ہوں، کوشش کی جائے تو مارچ 2024 سے پہلے الیکشن ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے حوالے سے تاریخی جھوٹ بولا، پینترا بدلا کہا کہ امریکا نے سازش نہیں کی، پھر جھوٹ بولا کہ سائفر گم ہوگیا ہے، سائفر گم ہو گیا تھا تو اسٹوری کہاں سے چھپ گئی؟، اسدمجید نے بطور سفیر میٹنگ میں کہا تھا حکومت گرانے کی سازش نہیں، سائفر کیسے لیک ہوا اس کاعلم نہیں، ایف آئی اے تحقیقات کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے خلاف کیسز سب نیب نیازی گٹھ جوڑ تھا، ہم دن رات پیشیاں بھگتے رہے، چیئرمین پی ٹی آئی کا معاملہ عدالت میں ہے، انہیں عدالتیں سزادیتی ہیں تو میرا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔
Load/Hide Comments



