گھوٹکی(آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ اگر آئندہ عام انتخابات میں قوم نے انہیں مینڈیٹ دیا تو وہ پاکستان بھر میں ان خاندانوں کو پکے گھر بنانے کے لیے بلاسود قرضے اور رہائشی زمین کے مالکانہ حقوق دیں گے، جو نسلوں سے سرکاری زمینوں پر تو آباد ہیں لیکن ان کے پاس مالکانہ حقوق سے محروم ہیں۔ خواتین کو پکے گھروں کا مالک بنائیں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سابق حکومت کے عوام دشمن اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر بناکر دینے کا جھوٹا وعدہ کرکے قوم کو دوکھا دیا۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے جاری بیان کے مطابق، سندھ پیپلزہاؤسنگ کے تحت سندھ بھر میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے تعمیر ہونے والے 20 لاکھ گھروں کے سلسلے میں ضلع گھوٹکی میں 82ہزار 746 گھروں کی تعمیر کے آغاز اور متاثرین کو رہائشی زمین کے مالکانہ حقوق دینے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے ہمیشہ ایسے انقلابی پروگرام متعارف کرائے ہیں، جو غربت کا مقابلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، یونین کاوَنسل سطح پر خواتین کو کاروبار کے لیے بلاسود قرضہ دینے کا پروگرام اور اب سیلاب متاثرہ خاندانوں کو گھروں کی تعمیر میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اس گھر کی زمین کا مالکانہ حقوق دینا ایسے ہی اقدامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف سیلاب کا مقابلہ نہیں کر رہے، بلکہ متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے ذریعے ہم غربت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ حکومتِ سندھ کی جانب سے سیلاب متاثرین کے گھروں کی ازسرِ نو پروگرام کے متعلق بات کرتے ہوئے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گذشتہ سال سیلاب کے بعد میں جس بھی علاقے کے دورے پر جاتا، تو ہر کسی کا ایک ہی مطالبہ ہوتا کہ اسے اس کا گھر بنانے میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 10 ماہ کی قلیل مدت کے اندر، میں نے سیلاب متاثرین کے گھر بنانے کے پروگرام کا منصوبہ بنایا، عالمی سطح پر ان گھروں کے لیے فنڈنگ کا بندوبست کیا اور اس پروگرام پر عملدرآمد کو یقینی بنایا، جس کے تحت آج سندھ بھرمیں سیلاب متاثرین کے 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا کام شروع کروا دیا ہے۔ انہوں نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے پہلے ایک بزرگ وزیراعظم تھے، جنہوں نے اپنے الیکشن مہم میں عوام کو ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا، اسے 4 سال ملے لیکن ایک گھر بھی نہیں بنایا۔ ہمیں چند مہینے ملے، اور یہ کام شروع بھی ہوچکا ہے۔ کچھ گھر بن چکے ہیں، دیگر بن رہے ہیں، اور باقی کچھ بھی بن جائیں گے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ماضی میں پی پی پی پر بے جا تنقید کی جاتی تھی کہ اسے گورننس کرنا نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی کردارکشی ایک سو فیصد جھوٹ پرمبنی ہے۔ انہوں نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس وبا ہو یا گذشتہ سال سیلاب، حکومتِ سندھ نے دیگر حکومتوں کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پی پی پی چیئرمین نے گھوٹکی میں آئی بی اے سکھر کے کیمپس کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ پر زور دیا کہ وہ منصوبے کو موجودہ صوبائی حکومت کا مدت ختم ہونے سے پہلے ہی عملی جامہ پہنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت بھی معاشی مشکلات درپیش ہیں، مہنگائی اور بیروزگاری بھی عروج پر ہے، لیکن ہم سب مل کر جدوجہد کریں گے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، گھوٹکے سے منتخب ارکانِ قومی اسمبلی سردار محمد بخش مہر اور سردار خالد احمد لونڈ، صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، عبدالباری پتافی، جام اکرام اللہ دھاریجو اور مکیش کمار چاولہ، ایم پی اے سہیل انور سیال، ضلع چیئرمین بنگل خان مہر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
Load/Hide Comments



