اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے گن اینڈ کنٹری کلب کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ گن اینڈ کنٹری کلب کے انتظامات خراب ہونے سے بدنامی کا باعث بنا، ایڈیشنل سیکرٹری صاحب! کیس کو سنجیدہ لیں، انا کا مسئلہ نہ بنائیں، یہ قومی اثاثہ ہے، سپریم کورٹ نے ایک ماہ میں گن اینڈ کنٹری کلب کا آڈٹ مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔گن اینڈ کنٹری کلب کے معاملات سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ ایڈیشنل آئی پی سی نے گن اینڈ کنٹری کلب قانون سازی کے حوالے سے بل 2023 موجودہ ہفتے میں پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی یقین دہانی کرئی۔ عدالتی ریمارکس میں کہا گیا سی ڈی اے لیز سمیت دیگر بقایا جات کے لیے وفاقی حکومت سے مل کر معاملات حل کرے، گن اینڈ کنٹری کلب کی انتظامیہ پہلے ہی انٹرنل آڈٹ کمپنی کی خدمات لے چْکی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے گن اینڈ کنٹری کلب کے انتظامات خراب ہونے سے بدنامی کا باعث بنا، ایڈیشنل سیکرٹری صاحب! اس کیس کو سنجیدہ لیں، انا کا مسئلہ نہ بنائیں، یہ قومی اثاثہ ہے۔۔ گن اینڈ کنٹری کلب لوگوں کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے ہے، صرف فوائد سمیٹنے کے لیے نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے جواب میں کہا ایک ماہ بعد یہ کیس کوئی اور بینچ سنے گا۔ عدالت نے دو ہفتے میں آڈٹ رپورٹ طلب کی تو نعیم بخاری نے کہا میں ایک ماہ کے لیے بیرون ملک جا رہا ہوں۔ عدالت نے کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی۔
Load/Hide Comments



