کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل کو ایک گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسی خیل کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔محکمہ صحت کے کنٹریکٹ ملازمین کو ملازمت سے نکالنے کے خلاف ملازمین کے احتجاج کا اور پنجرہ پل کی تعمیر پر این ایچ اے کی عدم دلچسپی کے حوالے سے سیکرٹری صحت اور این ایچ اے حکام کو 27جولائی کے اجلاس میں طلب کرنے کی رولنگ دی اور صوبائی وزیر میر اسداللہ بلوچ کے گھر پر دستی بم حملے میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرنے کی آئی جی پولیس کو ہدایت دی صوبائی وزیر خزانہ نے ایڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ پر حسابات حکومت بلوچستان 2022-23اور حسابات لوکل گورنمنٹ اسمبلی میں پیش کئے جنہیں پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سپرد کردیا گیااورآڈٹ رپورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹس ایوان میں پیش کی گئیں اجلاس میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے نقطہ اعتراض پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجگور میں صوبائی وزیر اسد بلوچ کے گھر پردستی بم حملے کی مذمت کرتے ہیں،جب وزیر محفوظ نہیں ہیں تو عوام کہاں محفوظ ہوں گے،حکومت واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرے اور ایسے واقعات کے تدارک کیلئے اقدامات اٹھائے رکن صوبائی اسمبلی میر عارف جان محمد حسنی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر اسد بلوچ کے گھر پر دستی بم پھینکنا قابل مذمت اقدام ہے،ایوان کی توجہ فاطمہ جناح ہسپتال کے فارغ ہونے والے کنٹریکٹ ملازمین اسمبلی کے باہر احتجاج کی جانب مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ کنٹریکٹ ملازمین اسمبلی کے باہر سراپااحتجاج ہیں ان سے بات چیت کی جائے اور مسئلے کا حل نکالا جائے۔جس پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی کہ اس معاملے پر سیکرٹری صحت کو 27 جولائی کو طلب کیا جاتا ہے۔جمعیت علمااسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے کہا کہ وزیر داخلہ موجود نہیں اسد بلوچ کے گھر پر حملے سے متعلق اُن سے معلومات حاصل کرتے، حالیہ طوفانی بارشوں سے ضلع واشک میں تباہی ہوئی ہے محکمہ پی ڈی ایم اے اور دیگر ادارے امدادی کارروائیاں تیز کریں۔صوبائی وزیر آبپاشی حاجی محمد خان لہڑی نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجرہ پل کی تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے عوام مشکلات میں ہیں۔ایک سال سے پنجرہ پل کی تعمیر مکمل نہیں ہوسکی، آج لسبیلہ میں بھی قومی شاہراہ بھی بہہ گئی ہے حکومت این ایچ اے سے جواب طلب کرے۔جس پر ڈپٹی اسپیکر نے این ایچ اے کے صوبائی حکام کو 27 جولائی کے اجلاس میں طلب کرلیا۔ صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ میں اپنی پارٹی کی جانب سے اسد بلوچ کے گھر پر حملے کی مذمت کرتا ہوں اس طرح کے واقعات میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے اور محکمہ خزانہ کی طرف سے ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہوں پی ڈی ایم اے بھی ضلعی سطح پر تفصیلات فراہم کرے۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ صوبائی وزیر اسد بلوچ کے گھر پر حملہ قابل مذمت ہے آئی جی پولیس بلوچستان کو حکم دیتا ہوں کہ پولیس اسد بلوچ کے گھر پر حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کر نے کیلئے اقدامات اٹھائے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے۔اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ بر حسابات حکومت بلوچستان بابت آڈٹ سال 2022-23اور آڈٹ رپورٹ برائے حسابات لوکل گورنمنٹ اینڈ لوکل کونسلز بابت آڈٹ سال 2022-23ایوان میں پیش کیں جنہیں ڈپٹی اسپیکر نے پبلک اکانٹس کمیٹی کے سپرد کرنے کی رولنگ دی۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سالانہ رپورٹ بابت سال 2018-19اور 2019-20ایوان میں پیش کیں۔ اجلاس میں رکن اسمبلی نصر اللہ خان زیرے کی عدم موجودگی پر انکے سوالات کو نمٹا دیا گیا۔بعدازاں ڈپٹی اسپیکر نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 27 جولائی کی سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کردیا.
Load/Hide Comments



