دنیا کے دیگر ممالک میں بھی نگراں سیٹ اپ نہیں ہے۔ہمیں نگراں سیٹ اپ کا نظام ختم کر دینا چاہئے،ایاز صادق

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر اقتصادیات ایاز صادق نے کہا ہے کہ کسی بھی امیدوار کے پانچ فیصد سے زائد ووٹ مسترد ہونے پر دوبارہ ووٹنگ ہو گی۔پولنگ اسٹیشننزمیں سی سی ٹی کیمرے لگائے پر بہت زیادہ خرچ آئے گا۔2018 کے الیکشن کا تجربہ تکلیف دہ تھا۔سائفر کا بیانیہ بنایا گیا، اس سے ملک کو نقصان ہوا۔چیئرمین پی ٹی آئی ن افواج پاکستان پر کیچڑاچھالا۔2014 کے دھرنے ک یپیچھے وہی تھے جو چیئرمین پی ٹی آئی کو لائے تھے۔نجی ٹی وی کو انٹرویو میں ان کاکہنا تھا کہ 2014 کے تسلسل کو2018 تک جاری رکھا گیا۔پائلٹ معاملے پر شاہ محمود باربار کہہ رہے تھے میٹنگ ختم کرو۔اس وقت شاہ محمود قریش بہت پریشان تھے۔ٹانگیں کانپنے کی بات شاہ محمود کیلئے کی تھی، جنرل باجوہ کیلئے نہیں۔اس کے بعد مجھے میر جعفر اور میر صادق بنا دیا گیا تھا۔اس وقت جو بات کی تھی آج بھی اس پر قائم ہوں۔نو مئی کو جوہندوستان نہیں کر سکا پی ٹی آئی نے کر دیا۔ہمیں اپنے سسٹم کو بہتر کرنے کی طرف جانا چاہئے۔نگراں وزیراعظم اور کابینہ الیکشن کی تاریخ نہیں دے سکتی۔پری ائیڈنگ افسر تمام امیدواروں کے دستخط لیکر نتائج جاری کرے گا۔پریزائیڈنگ افسر رات دو بجے تک نتائج دینے کا پابند ہوگا۔کسی بھی امیدوار کے صرف ایک پولنگ ایجنٹ کے سامنے ووٹوں کی گنتی ہو گی۔پانامہ کیس میں صرف نواز شریف سے تحقیقات ہوئی،نواز شریف کو نا اہل نہ کیاہوتا تو پاکستان آج یہاں کھڑا نہ ہوتا۔شہباز شریف نے بہت محنت کی، صحت بھی خراب کر لی۔انہوں نے کہاکہ اسحاق ڈار کو نگراں وزیراعظم بنانے پر بات نہیں ہوئی۔نگراں وزیراعظم تو کوئی بھی بن سکتا ہے۔دنیا کے دیگر ممالک میں بھی نگراں سیٹ اپ نہیں ہے۔ہمیں نگراں سیٹ اپ کا نظام ختم کر دینا چاہئے.