کراچی(آن لائن)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ19جون کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ٹاؤنز چیئر مین کی حلف برداری کے بعد آج تک یوسی ٹاؤنز چیئرمینوں کو بھی چارج منتقل نہیں کیاگیا، پہلے سے نالوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث معمولی سی بارش میں نارتھ کراچی اور نیو کراچی کی اہم اور بڑی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں،جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین نیوکراچی محمد یوسف چارج اور اختیارات منتقل نہ ہونے کے باوجود اپنی بساط کے مطابق پانی کے نکاس کام کرتے رہے۔چارج منتقل نہ ہونے اور ٹاؤنزویوسیز چیئرمینوں کو دفاتر نہ دینے کے باعث کام کرنے میں رکاوٹ کاسامنا ہے۔سند ھ اسمبلی کے باہر 29دن کے تاریخی دھرنے کے بعد پیپلز پارٹی نے معاہدہ کیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں گے، پیپلزپارٹی نے جعلی طریقے سے میئرشپ پر قبضہ تو کرلیا لیکن اختیارات منتقل نہیں کیے جارہے،سندھ حکومت اختیارات منتقل نہ کرکے زبردستی شہر میں وڈیرہ شاہی نظام کا تسلط کرنا چاہتی ہے،وفاقی وزیررانا ثناء اللہ کے مردم شماری کے نتائج کا اعلان نہ کرنے کے بیان کے حوالے سے وزیر اعظیم کو خط ارسال کریں گے کہ آئین سے ماوراء بیان کا نوٹس لیا جائے۔ ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں درست مردم شماری اور نئی حلقہ بندیاں کرکے انتخابات کروائیں۔کے الیکٹرک کو مزید 6 ماہ کی عبوری توسیع کو مسترد کرتے ہیں۔ اس کے خلاف ہم عدالت میں بھی جائیں گے۔کے الیکٹرک نے نجکاری معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا۔ ریڈیو کی فیس کے نام پر 15 روپے کا ٹیکس لگانا ظلم و زیادتی ہے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو ادارہ نورحق میں کے الیکٹرک کی طویل نا اہلی و ناقص کارکردگی کے باوجود لائسنس میں 6ماہ کی عبوری توسیع،مردم شماری میں کراچی کی گنتی پوری نہ کرنے اور تھوڑی سی بارش کے بعد شہر کی ابتر صورتحال میں مزید خرابی اور عوام کی مشکلات و پریشانیوں کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جنرل سکریٹری جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، نائب امیر کراچی راجا عارف سلطان، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اورڈپٹی سکریٹری اطلاعات صہیب احمد بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ پیپلز پارٹی ہر چیز پر اپنا قبضہ کرنا چاہتی ہے، بلدیاتی اداروں میں عبوری مدت کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کی جارہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے کراچی کا بجٹ بھی سٹی کونسل کے بجائے ایڈمنسٹریٹر سے پرانی تاریخ میں منظور کروالیا۔کراچی کا بجٹ سٹی کونسل میں عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے منظور ہونا چاہیے،جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئر مینز،یوسی چیئر مینز اور کونسلرز بارشوں کے بعد کی صورتحال سے نبٹنے کے لیے سڑکوں پہ موجود ہیں،پیپلز پارٹی اختیارات اور چارج منتقل نہیں کررہی جس کے باعث کام میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی وصوبائی حکومتیں مل کر کراچی کے عوام پر شب خون مارکر کراچی کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں،درست مردم شماری ہوگی تو قومی اسمبلی میں کراچی کی تقریباً 35 اور صوبائی اسمبلی میں 62 نشستیں ہوجائیں گی،پیپلز پارٹی نے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود 3 لاکھ سے زائد ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوئی،پیپلز پارٹی اب جعلی اور فراڈ مردم شماری کے ذریعے کراچی کی قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر بھی قبضہ کرنا چاہتی ہے،کراچی کی نمائندگی،ملازمتیں، مالیاتی و انتظامی امور کا دارومدار کراچی کی آبادی پر منحصر ہے،الیکشن کمیشن اور ادارہ شماریات پر لاکھوں روپے خرچ اس لیے نہیں کیے جاتے کہ یہ عوام کا حق ماریں۔
Load/Hide Comments



