چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف قانونی اقدامات کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ نہیں کہا جا سکتا جو کیا ہے وہ بھگتنا پڑے گا،علیم خان

لاہور(آن لائن)استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے مرکزی صدر علیم خان نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف قانونی اقدامات کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ ان کے اپنے کیے ہوئے جرائم کی سزا ہے، انہوں نے جو کیا ہے وہ بھگتنا پڑے گا، انتخابات میں تاخیر ملک کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی ہے اور آئندہ انتخابات میں ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کرے گی۔ امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت حکومتی اتحاد میں شامل نہیں ہے اور نہ ہی وہ حکومتی اتحاد میں شامل کسی جماعت کے ساتھ مل کر الیکشن میں حصہ لے گی۔ انہوں نے کہا “ہم اپنا الیکشن لڑیں گے، اپنے منشور پر لڑیں گے، اپنے انتخابی نشان پر لڑیں گے، ہر حلقے میں امیدوار کھڑے کریں گے اور اپنے مخالفین کے خلاف بھرپور الیکشن لڑیں گے۔” آئی پی پی کے دو اراکین کی وفاقی کابینہ میں موجودگی کے سوال پر علیم خان نے کہا کہ یہ اراکین پارٹی میں شمولیت سے پہلے سے وفاقی کابینہ کا حصہ تھے۔ ان کا خیال ہے کہ اب جب کہ حکومت کے خاتمے میں ایک ماہ کی مدت رہ گئی ہے تو انہیں ایسے وقت میں کابینہ سے مستعفی نہیں ہونا چاہیے۔ علیم خان نے کہا عام انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں اور ان میں کسی قسم کی تاخیر ملک کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی ہے۔علیم خان کے بقول خواہش ہے کہ عام انتخابات وقت پر ہوں اور انہیں امید ہے کہ اکتوبر یا نومبر میں عام انتخابات ہو جائیں گے۔اس سوال پر کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی انتخابات التوا کا شکار ہیں تو ایسے میں قومی انتخابات میں تاخیر کی باز گشت بھی ہے۔علیم خان نے کہا کہ صوبے میں نگراں حکومت کے ذریعے چار ماہ تک ملک کو چلانا اور وفاق کو چلانے میں فرق ہے۔انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت کے پاس الیکشن کرانے کا مینڈیٹ ہے پاکستان کو چلانے کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ پاکستان کے دنیا کے ساتھ تعلقات نئی حکومت کے ساتھ منسلک ہیں اور آئی ایم ایف نے بھی محدود مدت کے لیے معاہدہ کیا ہے تاکہ نئی آنے والی حکومت کے ساتھ بات چیت سے طویل مدتی معاملات طے کیے جائیں۔ علیم خان نے کہا یہ نہ صرف ان کی خواہش ہے بلکہ انہیں امید بھی ہے کہ قومی انتخابات وقت پر ہوں گے اور ان میں تاخیر نہیں برتی جائے گی۔اس سوال پر کہ اگر انتخابات التوا کا شکار ہوتے ہیں تو آئی پی پی کا کیا مو قف ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے مشاورت سے فیصلہ کیا جائے گا۔انتخابات کے حوالے سے اپنی جماعت کی تیاری سے متعلق انہوں نے کہا کہ الیکشن مہم کے آغاز کے ساتھ ہی ان کہ جماعت کے کارکن و رہنما سڑکوں پر اور جلسے کرتے نظر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی پی پی کی انتخابی مہم کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور انتخابی مہم کو بل از وقت شروع نہیں کرنا چاہتے تاکہ اس کے مومینٹم کو برقرار رکھا جا سکے۔سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کے آئی پی پی میں شمولیت کے بجائے الگ جماعت بنانے پر علیم خان نے کہا کہ پرویز خٹک اور ان کا نظریہ ایک ہے کہ نو مئی کے واقعات کے بعد کوئی محب وطن پاکستانی عمران خان کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے پرویز خٹک کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی تھی لیکن وہ شاید سمجھتے ہیں کہ آئی پی پی قیادت کا تعلق پنجاب سے ہے اور وہ خیبر پختونخوا کے ساتھیوں کو اکٹھا کرنا چاہتے ہیں اس لیے الگ جماعت کا اعلان کیا۔علیم خان نے کہا کہ وہ پرویز خٹک کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی میں محبِ وطن پاکستانی اپنی سیاست جاری رکھیں۔ اس سوال پر کہ ناقدین کہتے ہیں کہ آئی پی پی اور پرویز خٹک کی جماعت ٹیک آف سے پہلے ہی کریش کر گئی کے جواب میں علیم خان نے کہا کہ الیکشن ہو گا تو پتا چلے گا کہ کون ٹیک آف کرتا ہے اور کون کریش کرتا ہے۔عمران خان کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ کرنے کے امکانات پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں علیم خان نے کہا کہ اگر آپ شہدا کے مجسمے توڑیں گے اور فوجی تنصیبات کو آگ لگائیں گے تو کوئی آپ کو الیکشن لڑنے دے گا؟۔انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کور کمانڈر کے گھر کو جلائے اور جی ایچ کیو پر حملہ کرے۔ لہذا عمران خان نے جو کیا ہے وہ بھگتنا پڑے گا۔